Tuesday, 24 April 2018

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ ؟


مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی


مدارس کے فارغین کو عصری تعلیمی اداروں سے استفادہ کرتے ہوئے عصری علوم کو حاصل کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اس میں علماء و اربابِ دانش کے درمیان فکر و نظر کا اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک گروہ کا خیال ہے کہ دینی مدارس کے فارغین کو عصری دانش گاہوں میں شریک نہیں ہونا چاہئے ، اِس کے دو نقصانات ذکر کئے جاتے ہیں ، ایک یہ کہ اس سے دینی خدمت کے میدان میں افراد کم ہوجائیں گے اور مدارس کا جو بنیادی مقصد ہے وہی حاصل نہیں ہوسکے گا ، دوسرے : جب مدارس کے یہ فارغین عصری درسگاہوں میں جائیں گے تو وہ وہاں کے ماحول سے متاثر ہوجائیں گے ، اُن کی وضع قطع تبدیل ہوجائے گی اور وہ اصل ڈگر سے ہٹ جائیں گے ، یہ دونوں باتیں بے اصل نہیں ہیں ؛لیکن موجودہ حالات میں طلبہ کی اتنی بڑی تعداد مدارسِ اسلامیہ سے فارغ ہورہی ہے کہ اُن کو جگہ نہیں مل پاتی ؛ بلکہ بعض دفعہ تو غول کا غول بڑے شہروں میں ملازمت کی تلاش میں مدرسوں اور مسجدوں کا چکر لگاتا ہوا نظر آتا ہے اور جب جگہ فراہم نہیں ہوتی ہے تو سخت مایوسی کا شکار ہوتا ہے ، اُن میں سے کچھ تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگ جاتے ہیں ، کچھ ہمت ہارکر بے دلی کے ساتھ کمیٹیوں کے تحت ایک طرح کی غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور کچھ اور — جو کسی قدر ذہین و باصلاحیت ہوتے ہیں — بے ضرورت مدرسہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ، بچوں کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ اگر ایسے دس مدرسوں کو جمع کردیا جائے تب بھی طلبہ کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکے ، گذشتہ دنوں مجھے ایک ایسے شہر جانے کا موقع ملا جہاں چھ سات منزلہ بلڈنگ تھی اور اس میں سے ایک ایک منزل میں تین مدرسے قائم تھے ، ظاہر ہے کہ کسی واقعی ضرورت کے بغیر قائم ہونے والے یہ مدارس اُمت پر بوجھ ہیں اور بہت سی دفعہ یہ مدارس کے بارے میں بدگمانی کا سبب بھی بنتے ہیں ؛ اس لئے آج سے تیس چالیس سال پہلے تک تو یہ بات کہی جاسکتی تھی کہ اگر مدارس کے فضلاء دوسرے کاموں میں مشغول ہوگئے تو دینی خدمت گذاروں کی کمی ہوجائے گی ؛ لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے ، رہ گیا دیہاتوں میں معلمین کا دستیاب نہیں ہونا تو یہ علماء کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے ؛ بلکہ اس لئے ہے کہ دیہاتوں میں سہولتوں کے مہیا نہ ہونے ، حق الخدمت کے ناقابل بیاں حد تک کم ہونے اور خود فضلاء میں داعیانہ جذبہ مفقود ہونے کی وجہ سے علماء و ہاں جانے کو تیار نہیں ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عصری دانش گاہوں میں جانے والے بہت سے فضلاء مدارس اپنی اس پہچان کو قائم نہیں رکھ پاتے ، جو مدرسہ کی تعلیم و تربیت کی بنیاد پر انھیں حاصل ہوئی تھی ؛ لیکن اس سلسلہ میں خود مدارس کو غور کرنا چاہئے کہ اُن کے طریقہ تعلیم و تربیت میں کیا کمی ہے کہ وہ اپنا رنگ دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود دوسروں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ؛ حالاںکہ جو نوجواں دینی جماعتوں اور تحریکوں سے مربوط ہوتے ہیں وہ بہت جلد اپنے فکر و عمل میں اس درجہ پختہ ہوجاتے ہیں کہ ان پر مخالف ماحول کی کوئی آنچ نہیں آتی ، دوسرے : اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ عصری تعلیمی اداروں میں بھی ایسے اہل علم کی ضرورت ہے ، جو دین سے واقف ہوں ، اِس کی ضرورت پرائمری سطح سے لے کر یونیورسیٹیوں تک ہے ، اگر مدارس کے فضلاء کو اس میدان میں خدمت کا موقع مل جائے خواہ سرکاری ادارے ہوں یا پرائیوٹ ، تو ان کی تعلیم و تربیت طلبہ پر بہتر اثر ڈالتی ہے ، ہندوستان کی بعض یونیورسیٹیوں میں آج سے پچاس سال سے پہلے کمیونسٹ اور بے دین اساتذہ کا غلبہ تھا ، اسلامک اسٹیڈیز میں ایسے اساتذہ اسلامیات پڑھاتے تھے جو برملا قرآن و حدیث کا انکار کرتے تھے اور اسلام کے بارے میں طلبہ کے ذہن میں زہر گھولتے تھے ؛ لیکن گذشتہ کم از پچیس سالوں سے یہ صورت حال بدل چکی ہے اور اب عصری جامعات میں مدارس کے علماء نمایاں مقام حاصل کررہے ہیں ، یہاں تک کہ بعضوں نے آئی ، اے ، ایس اور آئی ، پی ، ایس بننے میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ، ان میں سے بعض تو اپنی دینی وضع قطع کے ساتھ مخالف ماحول میں خدمت کررہے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اگرچہ اپنی اس روایتی شناخت پر قائم نہیں رہ سکے ؛ لیکن کم سے کم ان کی وہ سوچ باقی رہی ، جو وہ مدارس سے لے کر گئے تھے ، اس کے نتیجے میں اِلحاد اور بددینی کی فضا دور ہوئی ، آج مختلف اقلیتی یونیورسیٹیوں میں اِس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں ، جو لوگ اتنے کمزور کردار اور کوتاہ فکر کے حامل ہوں کہ عوام کی ناک کی طرح اُن کی شکل بدلتی رہتی ہو ، اگر عصری اداروں میں نہ جائیں اور مدرسہ و مسجد کے علاوہ زندگی کے کسی اور شعبہ چلے جائیں ، تب بھی ان کا یہی رویہ سامنے آتا ہے ۔
اس لئے دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مدارس کے فضلاء کو دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی سہولت کے لحاظ سے عصری تعلیمی اداروں سے بھی استفادہ کی کوشش کرنی چاہئے ، خود تحریک مدارس کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے سر سید احمد خاں مرحوم کو خط لکھا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ مدرسہ عربیہ دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے طلبہ علی گڑھ جائیں نیز آپ نے سرسید احمد خاں کی خواہش پر اپنے داماد عبد اللہ انصاری کو شعبہ دینیات کے ذمہ دار کی حیثیت سے وہاں بھیجا تھا ؛ اِس لئے معتدل رائے یہی ہے کہ جن فارغین مدارس کو فراغت وقت میسر ہو ، مالی استطاعت ہو اور مزید حصولِ علم کی پیاس ہو تو وہ اِس نیت سے عصری تعلیمی اداروں سے استفادہ کریں کہ وہ اِسے کسب ِمعاش کے ساتھ ساتھ کسب ِمعاد کا اور خدمت ِدنیا کے ساتھ ساتھ خدمت ِدین کا بھی ذریعہ بنائیں گے ۔
اِدھر کچھ عرصہ سے مدارس کے فضلاء مزید حصولِ تعلیم کے لئے عصری جامعات کا رُخ کررہے ہیں ، عام طورپر ان کا داخلہ شعبہ اسلامک اسٹیڈیز ، شعبہ عربی اور شعبہ اُردو میں لیا جاتا ہے اور اپنے سابقہ تعلیمی پس منظر کی وجہ سے وہ اِن شعبوں میں امتیازی مقام حاصل کرتے ہیں ، بعض اوقات یہ اُن کے لئے روزگار کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے اور اس سے خود اُن کی ذات اور خاندان کو فائدہ پہنچتا ہے ؛ لیکن اُن کی یہ تعلیمی کاوش اسلام اور مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ، اگر اُن کا داخلہ دوسرے تعلیمی شعبوں جیسے قانون ، معاشیات ، میڈیا ، تاریخ وغیرہ میں ہونے لگے تو اس سے اُن کو بھی فائدہ ہوگا اور قوم و ملت کو بھی ، وہ اِن شعبوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ترجمانی کرسکیں گے ، جو غلط فہمیاں اسلام کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں ، اُن کو دُور کرسکیں گے اور آئندہ اگر انھیں اِن ہی شعبوں میں تدریس کا موقع مل گیا تو وہ ایک بصیرت مند مسلمان قانون داں ، مسلمان صحافی اور مسلمان ماہر معاشیات وغیرہ تیار کرسکیں گے ، یہ یقینا ایک بڑا کام ہوگا ؛ لیکن یہ فضلاء اِن شعبوں میں کس طرح داخلہ لیں اور ان نامانوس مضامین کو کیوںکر پڑھیں ؟ اُس کے لئے برج کورس کا ایک طریقہ کار سوچا گیا ، اب حکومت مختلف اقلیتی یونیورسیٹیوں میں ایسے برج کورس کا راستہ کھول رہی ہے ؛ تاکہ مدارس کے فضلاء کو خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعہ دوسرے شعبوں میں داخلہ کے لئے تیار کیا جائے اور وہ امتحان پاس کرکے اِن شعبوں میں داخل ہوں ، یہ ایک بہتر قدم ہے اور اگر اِس کا صحیح استعمال ہوتو اس کا اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
چنانچہ ملک کی پہلی اقلیتی یونیورسٹی ’’ مسلم یونیور سٹی علی گڑھ ‘‘ —جس کی ایک روشن تاریخ اور تعلیمی خدمت کا زبردست ریکارڈ ہے — نے بجاطورپر ’ برج کورس ‘ کے قیام میں پیش قدمی کی اور وہاں مدارس کے فضلاء داخلہ لینے لگے ، جو لوگ دینی وعصری تعلیم کے امتزاج کے سلسلے میں معتدل فکر رکھتے ہیں اور وسیع اُفق میں اسلام کی ترجمانی اور نئی نسل کی تربیت اور ذہن سازی کے بارے میں سوچتے ہیں ، ان کے لئے یقینا یہ خبر بڑی خوش آئند تھی ؛ لیکن افسوس کہ بقول علامہ اقبالؒ :
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر

لب ِخنداں سے نکلی جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما

لے کے آئی ہے مگر تیشہ فرہاد بھی ساتھ
بجائے اِس کے کہ دین دار ماہرین فن کے ذریعہ اِن فضلا کی تعلیم و تربیت کی جاتی ، وہاں ایک ایسے صاحب کو اِس کام پر مامور کردیا گیا جن کا نام ’’ شاذ ‘‘ ہے اور جو واقعی اسم بامسمیٰ ہیں ، ان کی فکر ’ الف ‘ سے ’ ی ‘ تک شذوذ ، تفرد ، توارت سے بغاوت اور سلف ِصالحین کے مسلمات سے انکار بلکہ اُن کی بے توقیری پر مبنی ہے ، اِس کی تفصیل یہ ہے کہ دین کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت ِرسول پر ہے ، قرآن مجید متن ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے اور حدیث پیغمبر کی زبان اور عمل سے قرآن مجید کی تشریح ہے ، خود قرآن نے آپ کے شارحِ قرآن ہونے کی حیثیت کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ’’ وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیَّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ‘‘ ( النحل : ۴۴) اور پھر آپ کی یہ تشریحات آپ کی طرف سے نہیں ہیں ؛ بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کے بیان کی ذمہ داری بھی لی ہے : ’’ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘‘( القیامۃ : ۲۰) تو قرآن ہی کی طرح بیان قرآن یعنی حدیث بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ، اسی لئے ارشاد فرمایا گیا : ’’ کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں ، اپنی طرف سے نہیں فرماتے ؛ بلکہ وحی الٰہی کی بناپر فرماتے ہیں : ’’ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ ، اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی‘‘(النجم : ۳-۴) یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ جو کچھ تلاوت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی وحی کی بناپر ، اگر ایسا کہا جاتا تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ صرف قرآن اللہ کی طرف سے ہے ، جس کی تلاوت کی جاتی ہے ؛ بلکہ فرمایا گیا کہ آپ جو کچھ بھی بولتے ہیں ، یہ سب اللہ کی طرف سے وحی ہے ، خواہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر الفاظ اُتارے ہوں جیساکہ قرآن مجید ہے ، یا اللہ تعالیٰ نے آپ ا کے سینے پر اپنی مرضیات کا القا کیا ہو اور آپ نے اُس کو اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہو ، جیساکہ حدیثیں ہیں ؛ اسی لئے حکم ربانی ہو ا کہ رسول جو کچھ بھی عطا فرمائیں ، اُسے قبول کرو اور جن باتوں سے بھی روک دیں ، اُن سے بچو ، خواہ یہ حکم اور ممانعت قرآنِ کریم مذکور ہو یا نہ ہو: ’’ مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْ‘‘ ( الحشر : ۷) اِس لئے یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجید کے بیشتر احکام پر رسول اللہ ا کی وضاحتوں کو نظر انداز کرکے عمل نہیں کیا جاسکتا ۔
آپ ا نے دین کی وضاحت اپنے قول سے بھی فرمائی ہے اور عمل سے بھی ، جن لوگوں نے آپ کے اقوال کو اپنے کانوں سے سنا ہے ، اور جن باتوں کو سمجھنے میں دشواری ہوسکتی تھی ، اُن کے بارے میں استفسار کیا ہے ، نیز آپ کے ایک ایک عمل کو سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور آپ کی خاموشی سے کسی قول یا فعل پر آپ کی رضامندی کو محسوس کیا ہے اور پھر قرآن مجید اور رسول اللہ ا کے فرمودات و معمولات کو لوگوں تک پہنچایا ہے وہ ہیں اصحابِ رسول ، اُن کے ارشادات حدیث کے لئے شرح و وضاحت کا درجہ رکھتے ہیں اور گویا حدیث رسول ہی کا ایک حصہ ہیں ؛ اِسی لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد بہت سارا اختلاف دیکھوگے ، اُس وقت وہ لوگ حق پر ہوں گے ، جنھوںنے میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ اختیار کیا ہوگا : ’’ ما انا علیہ واصحابی‘‘ (ترمذی ، ابواب الایمان ، حدیث نمبر : ۲۶۴۱) نیز آپ کا ارشاد ہے کہ تم اُس طریقے کو اختیار کرو ، جو میرا اورمیرے خلفاء راشدین کا ہے ، ’’ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ (ترمذی ، ابواب العلم ، حدیث نمبر : ۲۶۷۲) اِس طرح کتاب اللہ ، سنت ِرسول اور صحابہ کے وہ اقوال جو صرف اُن کے اجتہاد پر مبنی نہ ہوں اور جن میں عقل و قیاس کا دخل نہ ہو ، ایک اکائی کا درجہ رکھتے ہیں ، اِن میں سے ایک پر دوسرے کو چھوڑ کر مکمل عمل ہو نہیں سکتا ، نہ قرآن پر پورا پورا عمل کیا جاسکتا ہے ، اگر حدیثیں نظر انداز کردی جائیں ، اور نہ منشاء نبوی کو پوری طرح سمجھا اور عمل میں لایا جاسکتا ہے ، اگر صحابہ کی توضیحات سے صرفِ نظر کرلیا جائے ۔
قرآن و حدیث میں بعض اُمور کو اِس درجہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کا ایک ہی معنی متعین ہے ، عام طورپر اُن کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ؛ لیکن کچھ احکام ایسے الفاظ میں دیئے گئے ہیں ، جن میں ایک سے زیادہ معنوں کی گنجائش ہے ، ایسے مسائل میں بعض وہ ہیں جن پر خود اُمت کا اتفاق ہے ، اِس اتفاق کو اصطلاح میں ’ اجماع ‘ کہتے ہیں ، یہ بھی شریعت کی ایک اہم دلیل ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت کسی غلط بات پر مجتمع نہیں ہوسکتی : ’’ لا یجتمع أمتی علی ضلالۃ‘‘ (ترمذی ، ابواب الفتن ، حدیث نمبر : ۲۱۶۷) اور یہ بات عقل میں بھی آتی ہے کہ کسی بات پر تمام اہل علم کا متفق ہوجانا کسی بنیاد و دلیل کے بغیر نہیں ہوسکتا ؛ اس لئے یہ بھی دین میں حجت ہے اور اس سے آیات و احادیث کی غلط معنی آفرینی ، دور اذکار تاویل اور ہوا ہوس پر مبنی تشریح کا دروازہ بند ہوتا ہے ۔
کتاب و سنت ، آثار صحابہ اور اُمت کی اجماعی و اتفاقی آرا کو سامنے رکھ کر اور جن آیات و احادیث میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال تھا ، یا رسول اللہ ا کے مختلف افعال کا موقع و محل واضح نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر تعارض تھا ، یا اُن کا صریحاً کتاب و سنت میں ذکر نہیں ہے اور غور و فکر کی مختلف جہتیں اُن کے سلسلہ میں موجود ہیں ، اُن سب کو سامنے رکھتے ہوئے اُمت کے معتبر ، بالغ نظر ، خشیت ِالٰہی سے مامور مخلص اور دیدہ ور علماء نے عام مسلمانوں کی سہولت کے لئے زندگی کا پورا نظام مرتب کیا اور جن مسائل کا تعلق اعتقادات و ایمانیات سے تھا ، اُن کو علم کلام کا نام دیا گیا اور اُن سے شغف رکھنے والے متکلمین کہلائے ، اور عملی زندگی کے احکام و قوانین کو ’’ فقہ ‘‘ کا نام دیا گیا اور اس کی خدمت کرنے والے فقہاء کہلائے ، نیز جن لوگوں نے قرآن و حدیث کی اخلاقی تعلیمات اور تزکیہ نفوس سے متعلق اُمور کو جمع کیا اور اُن کو سامنے رکھ کر افراد کی تربیت کی ، اُن کو صوفیاء کہا گیا اور اُن کے اس علم کو ’’ تصوف ‘‘ کا نام دیا گیا ، اس میں شبہ نہیں کہ تصوف میں بعد کے دین ناآشنا لوگوں نے بعض عجمی تصورات و رواجات کو اپنا لیا ، جو درست نہیں ہے ؛ لیکن بہتر حال وہ اپنی اصل کے اعتبار سے اسلامی اخلاق ہی کی مرتب شکل ہے اور اسی لئے اِس کو ’’ علم الاخلاق‘‘ بھی کہتے ہیں ؛ لہٰذا کلام ، فقہ اور بدعات و بے جا رسومات سے پاک تصوف دراصل قرآن و حدیث ہی کی عملی صورت گری سے عبارت ہے ، یہ ایک ایسی مرتب اور منضبط شکل ہے کہ اُس کے ذریعہ دین کے تمام شعبوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔
جناب راشد شاذ صاحب بہ مشکل قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے کا اقرار کرتے ہیں ؛ لیکن حدیث رسول کے منکر ہیں ، صحابہ کے اقوال و افعال کی اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ، اُمت کے اجماع اور اتفاق کو حجت ماننا اُن کے نزدیک ایک غلط مفروضہ ہے اور جب دین کے یہ بنیادی ماٰخذ اُن کی نظر میں غیر معتبر اور ناقابل تسلیم ہیں تو ظاہر ہے کہ علم کلام ، فقہ اور تصوف کا ان کے یہاں کیا گذر ہوگا وہ تو اُن کی نظر میں دریا بُرد کردیئے جانے کے لائق ہے ، اس لئے وہ اپنی کتابوں میں قدم قدم پر ایمان و عقیدہ کی تشریح کرنے والے متکلمین ، قرآن مجید کی شرح ووضاحت کا فریضہ ادا کرنے والے مفسرین ، اجتہاد و استنباط کے ذریعہ عملی زندگی سے متعلق احکام مرتب کرنے والے فقہاء نیز صوفیا اور سلف صالحین کا استہزا کرتے ہوئے خوب محظوظ ہوتے ہیں ، اُن کو مطالعہ تاریخ بھی انھیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بُری قوم مسلمان ہیں ، اِس اُمت کی بد اعمالیاں ، بد اطواریاں اور کوتاہیاں اُن کی نگاہوں کے سامنے اِس طرح ہیں کہ گویا دوپہر کی دُھوپ ؛ لیکن اس اُمت کی اخلاقی خوبیاں اور اُن کے علمی و فکری کارنامے ان کی نظر میں اتنے کم ہیں کہ دور بیں کی آنکھوں سے بھی نظر نہیں آئیں ۔
یہ جو میں نے عرض کیا کہ وہ قرآن کے کتاب ِالٰہی ہونے کا بمشکل اقرار کرتے ہیں ، یہ ’’ بمشکل ‘‘ کا لفظ بے وجہ نہیں ہے ، وہ قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تشریح و تفسیر میں ایسی بے جاتاویل و توضیح کی راہ اختیار کرتے ہیں ، جو گذشتہ چودہ سال کے عرصہ کے سلف صالحین کی تشریح سے یکساں مختلف ہے ، قرآن مجید ابدی کتاب ہے اور قیامت تک کی انسانیت کی ہدایت کے لئے ہے ؛ لیکن شاذ صاحب کی خنجر بے داد سے قرآن مجید کی یہ حیثیت بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور وہ قرآن کے بعض احکام کو رسول اللہ ا کے عہد کے لئے مخصوص مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب یہ احکام تبدیل کردیئے جائیں ، جیسے قرآن نے بیٹیوں کے مقابلہ بیٹوں کا حصہ دوہرا رکھا ہے ؛ کیوںکہ خاندان کی ساری مالی ذمہ داریاں بیٹوں پر رکھی گئی ہے اور بیٹیوں کو اُن سے فارغ رکھا گیا ہے ، شاذ صاحب کا خیال ہے کہ اب دونوں کا حصہ برابر کردینا چاہئے ، گویا قرآن کو بھی وہ اس کے دوام و استمرار اور آفاقیت کے تصور کے ساتھ نہیں مانتے ؛ چوںکہ مسلم سماج میں رہتے ہوئے اور اسلام کا نام پر لے کر قرآن مجید کا سِرے سے انکار ممکن نہیں تھا ؛اس لئے انھوںنے بہ تکلف اس کے کتاب ِالٰہی ہونے کا اقرار تو کرلیا ؛ لیکن یہ بھی اُن کے لئے کڑوا گھونٹ ہے جو اُتارے حلق سے نہیں اُترتا ، اِس سلسلہ میں اُن کی کتاب ’’ ادارکِ زوالِ اُمت‘‘ نہایت گمراہ کُن کتاب ہے اور فکری شذوذ و انحراف کی ایک افسوس ناک مثال ہے ، جو اُمت کو الحاد ، مذہب بیزاری اور خدابیزاری کی طرف لے جاتی ہے ، افسوس اور بالائے افسوس یہ بات ہے کہ کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے مدارس اسلامیہ کے ’’ برج کورس ‘‘ کے لئے ایسے شخص کو ذمہ دار مقرر کیا ہے ، جن کی دینی و عصری تعلیم کے درمیان پل بننے کی اُمید تو کم ہی ہے ؛ لیکن اس بات کا پورا پورا اندیشہ ہے کہ یہ شعبہ اسلامی اقدار اور دینی مسلمات سے انکار کے درمیان ضرور پل بن جائے گا ، اور یہ اندیشہ واقعہ کی جو صورت اختیار کررہا ہے ، جیساکہ اس شعبہ کے فارغین کی تحریری نمونوں سے معلوم ہوتا ہے ۔
یونیور سٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسی اسلام مخالف حرکتوں کو روکے ، اور مدارس کا فریضہ ہے وہ اپنے فضلاء کو حقیقی صورت حال سمجھائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سونا سمجھ کر بے قیمت پیتل خرید کرلیں ، نیز خود فضلا کو بھی چاہئے کہ وہ ایسی تحریک سے متاثر نہ ہوں ، اس حقیر نے جب اخبار میں دیکھا کہ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں بھی برج کورس شروع ہونے جارہا ہے تو دل کانپ اُٹھا کہ کہیں یہ شاذ صاحب کے ایجنڈے کی توسیع تو نہیں ہے اور میں نے مانو کے محترم وائس چانسلر سے اس موضوع پر گفتگو بھی کی ، مجھے بڑی خوشی ہے کہ انھوںنے اِس حقیر کے نقطۂ نظر کو قبول کیا اور کہا کہ یہاں ہرگز ایسا کچھ نہیں ہوگا ، خدا کرے دوسری اقلیتی یونیورسیٹیاں میں اس کو پیش نظر رکھیں ، اگر ایک شخص شراب کہہ کر شراب بیچے تو ہمیں ایک جمہوری ملک میں اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ؛ لیکن اگر شراب کو شہد کہہ کر بیچا جائے تو سچائی کا اظہار اور حقیقت کی وضاحت ضروری ہے ؛ کیوںکہ یہ ایک دھوکہ ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ کوئی شخص پوری اُمت کو اپنے دھوکہ کا شکار بنادے ، اوربالخصوص ایسی صورت میںکہ یہ کسی شخص کے ذاتی افکار کا مسئلہ نہیں رہ گیا ہے ؛ بلکہ ایک ایسی دانش گاہ — جسے مسلمانوں نے اپنے خون جگر سے پالا ہے ، اس کے اقلیتی کردار کو بچاے کے لئے زبردست جدوجہد کی ہے اور آج بھی اس کا یہ کردار داؤپر لگا ہوا ہے — کو ایسے نادرست افکار کے رنگ میں رنگنا ملت ِاسلامیہ کی گرانقدر کوششوں کے ساتھ بے وفائی ہے ، اس پس منظر میں یہ سطور لکھی گئی ہے ، وما ارید الاصلاح واﷲ ھو المستعان.

  • (بصیرت فیچرس)


Monday, 23 April 2018

কে দিয়েছে নারীর সম্মান?

                                      

মুআয আল জুহানী


আব্দুল্লাহ ও আমাতুল্লাহ।নব দম্পতি। সীমাহীন ভালোবাসা। এক মুহুর্তের বিচ্ছেদ যেন অসহ‍্য।কেউ কাউকে ছাড়া কোথাও যায় না।একে যেন অপরের প্রাণ। অবিচ্ছেদ্য অঙ্গ। মক্কা নগরীতে যেন তাদের প্রেমের প্রবাদ শুরু হয়ে যাবে অচিরেই। প্রায় বিশ দিন হয়ে গেলো তাদের বিয়ের। সন্ধ্যে হয়েছে। পূর্বের চোখ ঝলসানো সূর্যটা কুসুম বর্ণের রুপ নিয়েছে। এক্ষুনি রক্তিম আভা ছড়িয়ে হারিয়ে যাবে পশ্চিম দিগন্তে। আব্দুল্লাহ সারাদিন তপ্তমরুতে উট চালিয়ে অবসন্ন দেহে ঘরে ফিরেছে। 

স্বীয় প্রাণ, জীবনের চালিকাশক্তিকে সে ঘরে রেখে গিয়েছিলো। বাড়ি পৌঁছার আগথেকেই মনটা ব‍্যাকুল হয়ে আছে।জান কেমন আছে?সে কি করছে? কোন কষ্ট হয়নিতো  একা একা বসে থেকে?
হাজারটা প্রশ্ন যেনো তাঁকে বারবার ঘিরে ধরছিলো।
বাহিরের গেটটা সে মাড়িয়ে এসেছে। কিন্তু তখনো ভেতর থেকে কোন আওয়াজ মিলছিলো না।অন‍্যদিনের মতো দু'হাত বাড়িয়ে ছুটে আসেনি তাঁর হৃদস্পন্দন। বহুদুশ্চিন্তা ঘিরে ধরছে তাঁকে। বারকয়েক ডাকলো সে, স্বীয় অর্ধাঙ্গিনীকে। কিছুক্ষণপর ঠিকি বেরিয়ে এসেছে সে, কিন্তু, আগেরমতো নয়। তাঁর চাঁদমুখো চেহারাটা যেন নিস্প্রভ হয়ে আছে। কিছু হারানোর ভয় যেন মুক্তোরাঙা চেহারায় ফুটে উঠেছে।মুখ থেকে তাঁর কথা সরছে না।উভয়ি একে অপরের দিকে নিষ্পলক,নির্বাক তাকিয়ে আছে। আব্দুল্লাহ কথা বলতে শুরু করলো।কি হয়েছে জানু?
আজ অমন করছো কেনো?
আমু নিরব।
কি বলবে ও? আশার কোন বাণীযে সে শুনাতে পারবেনা। তবুও সে নিজেকে কিছুটা সংযত করতে চেষ্টা করলো। ধর্মীয় নিয়ম,সে যে মানতেই হবে।বলতে শুরু করেছে সে।
আমার পিরিয়ড শুরু হয়েছে।
 আমরা আর একসাথে থাকতে পারবো না। তাঁরা জানে।আজ থেকে তাদের বিছানা পৃথক।ঘর ভিন্ন।
আজ থেকে সে অস্পৃশ্য।
এতদিন সে যাকে ছাড়া ঘুমুতে পারতো না।আজ সে তার, কাছেও যেতে পারবে না।সে অশুচি। তাঁকে ভিন্ন ঘরে আলাদা করে রাখা হবে। খাবারের প্লেটটাও কেউ তাঁর হাতে উঠিয়ে দিতে পারবেনা।রেখে আসতে হবে দূর থেকেই।বাড়ির কেউই তার সাথে কথা বলবে না।নারী হয়ে জন্মানোই যেনো ছিলো তাঁর জীবনের সব'চে বড় ভুল।
কিন্তু কিইবা করার আছে? ধর্মের আদেশ।

নির্ঘুম, অস্থির রাত কাটছে উভয়ের। দু'দিন কেটে গেলো।আর তর সইছে না। তৃতীয়দিন।
রাতে ,সংগোপনে তাঁরা সাক্ষাৎ করলো।তবে কিছুক্ষণ পরি তাঁরা নিজেদের ভুল বুঝতে পেরেছে।
ভোর না হতেই তাঁরা ছুটে চলেছে ঠাকুরজীর ঘর পানে।
সকালের মৃদু হাওয়া তাদের শরীরে  আছড়ে পড়ছে। হৃদয়রাজ্যেও যেনো তাঁরা তার আলতো পরশ অনুভব করছে। কিন্তু কি যেনো তাদের মাঝে বাধা হয়ে দাঁড়িয়েছে।তাদের মৃদু সমীরণের সুপ্ত অনুভূতিকে গলে চেপে ধরেছে। আনমনে হাঁটছিলো দুটো মানব মানবী।
তাঁরা ঠাকুরবাড়িতে পৌঁছে গেছে।ঠাকুরমশায় আগরম বাগরম বলে বলে কি যেনো জপছিলো।আর বাড়ির চতুর্পাশে ঘুরছিলো। আব্দুল্লাহর কুর্নিশে তাঁর ঘোর কাটলো।হুবাল হুবাল বলে সে কথা শুরু করলো। তাদের কথা শুনে,প্রথমি সে তাদের ফায়সালা শুনালো।ছ'মাস কেউ কারো কাছে যেতে পারবে না।তবেই হবে তোমাদের এ অপরাধের প্রায়শ্চিত্ত।বহু কাকুতি মিনতি করেছে তাঁরা।বলেছে, দু'দিন আমরা থাকতে পারিনি সেখানে ছ'মাস ?
এটা কিভাবে সম্ভব?
কিন্তু ঠাকুরজীর একটাই কথা। অপরাধ করেছো, এখন এর প্রায়শ্চিত্ত ভোগ করতেই হবে। তাদের কোন কথার পাত্তাই দিচ্ছে না সে। অগত্যা তাঁরা বাড়ি ফিরে এসেছে।
এ বিরহের জ্বালা তাঁরা সহ‍্য করতে পারছিলো না।
ভিন্ন ভিন্ন ঘরে বসে আছে দু'জন। চিন্তার রেখা যেনো উভয়ের ভালে প্রস্ফুটিত। পুরো ঘরে সুনসান নীরবতা।

আব্দুর রহমান এসেছে।সে আব্দুল্লাহর ছোটো ভাই। নতুন এক সংবাদ নিয়ে এসেছে সে।হাশেমী বংশের বিশ্বস্ত ভালো মানুষটি নাকি নবুওয়াতের দাবি করেছেন। তিনি নাকি মানুষের মাঝে শান্তির বাণী শুনাচ্ছেন।ভ্রাতৃদ্বন্দ্ব দূর করছেন। মানুষ মানুষে ভেদাভেদ মিটিয়ে দিচ্ছেন।

আব্দুল্লাহ আর দেরী করলো না। ছুটে চললো সে কাবা ঘর পানে।
ইসলামের অমিয় বাণী শুনে সে মুগ্ধ হলো।
পিরিয়ডের বিষয়টি জিজ্ঞেস করতে সে ভুললো না।সে যথাযথ উত্তর পেলো।
কোন মানুষ অশুচি হতে পারে না।আর মহিলারাও তো মানুষ।তাই তাদের সাথে উঠা বসা ইত‍্যাদি সব করতে পারবে। তবে পিরিয়ড একটা কষ্টদায়ক জিনিস,তাই সে সময়টায় তোমরা সহবাস থেকে বিরত থাকবে। আল্লাহ তাআলা বলেন:وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ তাঁরা আপনাকে পিরিয়ড সম্পর্কে জিজ্ঞেস করে?
আপনি বলুন, সেটা একটা কষ্টদায়ক বিষয়। সুতরাং তখন তোমরা নারীদের(সহবাস) থেকে বিরত থাকো। সূরা আল বাকারা, আয়াত নং:২২২.

ইসলামের এ যুগোপযোগী সমাধান শুনে তাঁরা আর দেরি করতে পারলো না। প্রবেশ করলো ইসলামের সুশীতল ছায়াতলে।

আমাতুল্লাহর মুখ ফসকে অজান্তেই বেরিয়ে এলো, ইসলামই দিয়েছে নারীদের একমাত্র সম্মানের অধিকার। ইসলামই হলো একমাত্র মানবাধিকারের ধর্ম।


Thursday, 19 April 2018

لماوصف أبو داؤد حديث همام منكرا ،وهل هو يلائم به أم لا؟



Muaz Al Juhany 


حدثنا نصر بن علي، عن أبي علي الحنفي، عن همام، عن بن جريج، عن الزهري، عن أنس قال: " كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل الخلاء وضع خاتمه".
قال أبو داود: هذا حديث منكر، وإنما يعرف عن بن جريج، عن زياد بن سعد ،عن الزهري ،عن أنس، أن النبي صلى الله عليه و سلم اتخذ خاتما من ورق ثم ألقاه، والوهم فيه من همام، ولم يروه إلا همام.

كيف وصف أبو داود هذا الحديث منكرا؟
مع أن تعريفا المنكر اللذان بينه بن حجر في شرح نخبة الفكر لم ينطبق عليه!
فتعريفه الأول:-هو الحديث الذي رواه الضعيف مخالفا لما رواه الثقة.
وهمام ثقة.فلا ينطبق عليه هذا التعريف.

والثاني:-هو الحديث الذي رواه من فحش غلطه، أو كثرت غفلته، أو ظهر فسقه. 
هذا التعريف أيضا لم ينطبق على إنكاره حديث همام،لكون همام ثقة ضابطا.
فما هو وجه نكارته؟

نعم سأذكرلكم سبب نكارته حديث همام.
فأقول لكم قولا جديدا لم أعثر على أحد قال به، ولم يسبب قول أبي داود بهذا التعريف.
إن نكارة أبي داود لحديث همام كان لتعريف ثالث.
وهو تعريف أحمد بن هارون البرديجي (متوفى٣٠١)الذي رواه بن الصلاح(متوفى ٦٤٣) في مقدمته في النوع الرابع العشر، 
فقال:-
المنكر:-أنه الحديث الذي ينفرد به الرجل، ولا يعرف متنه من غير روايته، لا من الوجه الذي رواه منه ولا من وجه آخر‏.‏ فأطلق ‏‏البرديجي‏‏ ذلك ولم يفصل‏.‏
فأبو داود جعله منكرا على نهج هذا التعريف.
وزعم أن همام تفرد بهذه الرواية،
وما هي الحقيقة؟ 
هل همام متفرد به أم له من متابع؟
نعم وجدنا له متابعَين من بن جريج.
ذكر بن أبي شيبة في المصنف،
متابعة يحيى بن المتوكل.
ويحيى بن المتوكل وثقه ابن حبان وقال : يخطئ وقال عنه ابن معين : لا أعرفه قال ابن حجر : متابعة يحيى قد تفيد لكن قول ابن معين لا أعرفه أراد به جهالة عدالته لا جهالة عينه ...

وتابعه : 
يحيى بن الضريس أخرجه أو ذكره الدارقطني في العلل [ وهي ليست عندي ] الرجاء من كانت عنده أن يذكر ذلك.لأنه ثقة لكن لا أعرف الإسناد إليه قال ابن القيم : فينظر الإسناد إليه .
فلنكارة أبي داود لم يخلو مجالا.
وبالأكثر يطلق عليه اسم الحسن لغيره، لكثرة شواهده ومتابعه.
أو يطلق اسم الضعيف،لوهم همام،و تدليس بن جريج.
والله أعلم بالصواب ....

شكرا لكم إخواني على قراءتكم رسالتي هذه.
أخوكم في الله،
معاذ الجهني.


Wednesday, 18 April 2018

দারুল উলুমের দিনকাল



মুআয আল জুহানী


জুনের ছয় তারিখ রাত দশটার দিকে  দারুল উলুম,দেওবন্দ পৌছি।অটো এসে মাসজিদে রশিদের সামনে থামে।এতদিন বিভিন্ন বইয়ে,ডাইরিতে যেসব ছবি দেখতাম ,সে স্বপ্নিল দৃশ্যগুলো আস্তে আস্তে চর্মচোখে ধরা দিতে লাগলো।মূহুর্তেই শত সপ্ন, শত কল্পনারা এসে ভীর জমাতে লাগলো স্মৃতিপটে।দূর হতে লাগলো সফরের সকল জার্ণি।মনের অবস্থাযে তখন কেমন হয়েছিল তা আমার ভাষাতিত।যাইহোক ,আমার রহমানিয়ার ক্লাসমিট উমায়ের ভাই ও আমার ছোট কালের এক ওয়াফী বন্ধু খুবাইব ইস্তিক্ববাল করে নিয়ে গেল রওয়াকে খালেদে(দারুল উলূমে অনেক ছাত্রাবাস আছে,যেগুলো একেকটা জামিয়া ইমদাদিয়া ,জামিয়া রহমানিয়ার মতো বড়,রওয়াকে খালেদও সেগুলোর একটি)।রহমানিয়ার পুরাতন সাথীরা(যারা গতবছরি চলে এসেছিল) খাবার দাবার রেডি করে রেখেছিলো,গোসল সেরে সেগুলো খেলাম।এশার নামাজ আদায় করলাম।দুদিনের জার্ণিতে শরির খুব ক্লান্ত ছিলো,তাই নামাজটা সেরেই শুয়ে গেলাম।
চলবে,,,,


মাদানীনগর মাদরাসা থেকে আমার বিদায় প্রসঙ্গ

-মাওলানা সফিউল্লাহ ফুআদ


       এক স্থান থেকে অন্য স্থানে স্থানান্তর হওয়ার ঘটনা আকাবিরদের জীবনে অসংখ্য রয়েছে। উদাহরণস্বরূপ হযরত হাকিমুল উম্মত থানবি রহ. (১২৮০ - ১৩৬২ হি.) কানপুর থেকে থানাভবনে স্থানান্তর হয়েছেন, ইমামুল আসর আল্লামা আনোয়ার শাহ কাশ্মিরি রহ. (১২৯২ - ১৩৫২ হি.) দারুল উলুম দেওবন্দ থেকে ডাবেল গিয়েছেন এবং শায়খুল ইসলাম মাদানি রহ. (১২৯৬ - ১৩৭৭ হি.) সিলেট থেকে দেওবন্দ গিয়েছেন। সুতরাং মাদানীনগর মাদরাসায় ১৬ বছর খেদমত করার পর যদি মাদরাসার সকল উস্তাদের সঙ্গে সুসম্পর্ক বজায় রেখে বিভিন্ন ব্যক্তিগত কারণে আমি অন্য কোথাও স্থানান্তরিত হই, তাহলে আমি একে আকাবিরদের অনুসরণই মনে করি।

মাদরাসার শ্রদ্ধাভাজন মুহতামিম সাহেবের নিকট আমি আজ (২৭ রজব ১৪৩৯ হি.) থেকে প্রায় ৬ মাস পূর্বে (১৪৩৮ - ৩৯ হিজরি শিক্ষাবর্ষের প্রথম সাময়িক পরীক্ষা সমাপ্ত হওয়ার দুদিন আগে) বিদায়ের প্রসঙ্গটি উত্থাপন করেছি। পরে আরো দুবার দরখাস্তটি পেশ করেছি। এরপর তাঁর ঘনিষ্ট একজনের মাধ্যমে দরখাস্তটি পেশ করার ব্যক্তিগত কিছু কারণও তুলে ধরেছি। তারপর আজ থেকে প্রায় ১ মাস পূর্বে আমি নিজে পরপর দুদিন কিছুটা বিস্তারিতভাবে কিছু কারণ ব্যাখ্যা করেছি। উল্লেখ্য, আমি এখনও মাদানীনগর মাদরাসায় যথারীতি আছি। আলোচনা আগত শিক্ষাবছর নিয়ে। তো কিছু ব্যক্তিগত কারণই হলো মাদানীনগর থেকে আমার বিদায় গ্রহণের উপলক্ষ্য।

হযরত মুহতামিম সাহেব এবং মারকাযুদ্দাওয়ার মাওলানা মুহাম্মাদ আবদুল মালেক সাহেব দা. বা. ব্যতীত মাদরাসার অন্য কোনো উস্তাদের সঙ্গে আমি আমার যাওয়ার বিষয়ে কোনো কথা বলিনি। সুতরাং মুহতামিম সাহেব অথবা মাওলানা মুহাম্মাদ আবদুল মালেক সাহেব দা. বা. ছাড়া আমার যাওয়ার মূল কারণ কারো জানা থাকার কথা নয়। এমতাবস্থায় করণীয় দুটি-

১. مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْأِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ হাদিসের উপর আমল করে কেউ আমার বিদায়গ্রহণের কারণ সম্পর্কে কোনো উক্তি করবেন না।
২. অন্যথায় সরাসরি তাঁদের থেকে জেনে তারপর কথা বলবেন।

শ্রদ্ধেয় মুহতামিম সাহেবকে আমি পরিষ্কার ভাষায় বলেছি, যদি কেউ আমার বিদায়গ্রহণকে ‘অমুক বিষয়ে তিনি নিজের অবস্থান নিয়ে পৃথক হয়ে গেছেন ’ বলে ব্যক্ত করেন, তাহলে তা অপবাদ বলে গণ্য হবে। অতএব সকলকে এমন ধারণা পোষণ করা থেকে বিরত থাকার জন্য আমি আন্তরিকতাপূর্ণ পরামর্শ দিচ্ছি; যেন আখেরাতের আদালতে এ খোঁড়া ওজর পেশ করতে না হয়, ‘আমাদেরকে তো সতর্ক করা হয়নি’।

মোটকথা, উম্মতের অনেক আকাবির যেমন নিজেদের বিভিন্ন ব্যক্তিগত কারণে অনেক সময় স্থান পরিবর্তন করেছেন, তাঁদের অনুকরণে আমিও আমার মুরুব্বিদের সঙ্গে পরামর্শপূর্বক কিছু ব্যক্তিগত প্রয়োজনে মাদানীনগর মাদরাসা থেকে অন্যত্র যাচ্ছি। আলহামদুলিল্লাহ, মুহতামিম সাহেবসহ মাদরাসার সকলের সঙ্গে আমার ব্যক্তিগত সুসম্পর্ক বজায় আছে। তাঁদেরও আছে আমার প্রতি অকৃত্রিম ভালোবাসা। আল্লাহ তাআলা এ বন্ধন স্থায়ীভাবে অটুট রাখুন। আমিন!

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العالَمِينَ، اللهُمَّ أَحْسِنْ عاقِبَتَنَا فِي الأُمُوْرِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

রোজনামচার পাতা থেকে
(২৭.৭.১৪৩৯ হিঃ / ২.১.১৪২৫ বঃ / ১৫.৪.২০১৮ ঈঃ)


মু'মিনের মর্যাদা…






মু'মিনের ইজ্জত রক্ষায় ইসলামের ভূমিকা৷

                  ---তামজীদুল মাওলা কাসেমি

ইসলাম ইজ দ্যা কমপ্লিট কোড অব লাইফ৷ সেন্টেন্সটি মক্তব থেকেই ভিতরে জায়গা করে আছে৷ নূরানী (প্রাইমারী) পড়ার বরকত বা কৃতিত্বই বলতে হবে৷ হয়ত তখন মূলতত্ব সুবোধ হয়নি৷ এক কথায় পূর্ণাঙ্গতার শীর্ষ চূঁড়ায় ইসলাম৷ ইসলামী জীবন ব্যবস্থা এবং সৌন্দর্য্য ও বিশেষত্বের কাছে সমস্ত বাম ও মানব রচিত থিউরি অবনত শীর হয়ে আছে৷ ইসলামের দেয়া চ্যালেঞ্জ আজও কেউ গ্রহণ করতে পারেনি পারবেও না৷ ইনশাআল্লাহ৷ ইসলামের অন্যতম বৈশিষ্টের অন্যতম একটি হলো৷ "মানুষের ইজ্জতের হেফাজত করতে জানে ইসলাম৷ গুণীজনের সম্মান দিতে জানে ধর্ম৷ বিনা কারণে কারো ইজ্জত নাশ সম্মানে আঘাত অন্যায়ভাবে কারো মানহানী হোক ইসলাম তা কোন কালেই পছন্দ করে নি৷
ইজ্জতের গ্যারান্টি দিতে গিয়ে শরীয়ত গীবতকে করেছে হারাম৷ শুধু হারাম ই করে নাই বরং الغيبة أشد من الزنا বলে
সর্বনিকৃষ্ট গর্হিত কাজ যিনার থেকেও মারাত্মক ঘোষণা দিয়েছে৷ এতটাই নিম্ম পর্যায়ের যে "গীবত" আপন মায়ের সাথে ব্যাভিচারের মত ফাহিশার সমতুল্য! কোরআন তো এ কথাও বলে যে:
﴿يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اجتَنِبوا كَثيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ وَلا تَجَسَّسوا وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُم أَن يَأكُلَ لَحمَ أَخيهِ مَيتًا فَكَرِهتُموهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوّابٌ رَحيمٌ﴾
গীবত মৃত ভাইয়ের গোস্ত বক্ষণ সমতুল্য৷
কিযব ও মিথ্যাকে চিরতরে হারাম করে তোহমত ও অপবাদের দরজা বন্ধ করেছে ইসলাম৷ সাথে তার হদ তথা দন্ডবিধিও প্রণয়ন করেছে শরীয়ত৷ একজন মুমিনের ইজ্জতের গুরুত্ব কতটুকুই যে, বিদায় হজ্জের ভাষণে রাসুল সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম স্পষ্ট ঘোষণা দিয়েছেন:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ. قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ ". قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ. قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ. قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ،كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا
তথা মানুষের জান মাল ও ইজ্জত সম্মান অন্যায়ভাবে খর্ব করাকে হারাম করেছে যে ধর্ম সেটাই হলো ইসলাম (বোখারী)
শুধু এতটুকুই শেষ নয়৷ বরং একজন মু'মিনের ইজ্জত রক্ষায় স্বয়ং খোদা (জাল্ল যিকরুহ) নিজেই জিব্রিল (আঃ) পাঠিয়ে মু'মিনের ইজ্জত রক্ষা করছেন৷ উদাহরণ স্বরুপ কেবল দুটি দৃষ্টান্ত পেশ করি৷
এক.
উম্মাহাতুল মু'মিনীন নবীর প্রিয় স্ত্রী হযরত আয়েশা রা.কে মালাউন মুনাফিক সরদার আব্দুল্লাহ ইবনে উবাই ইবনে সালুল যখন যিনার অপবাদ দিল৷ সে মুহূর্তে…
গজওয়ায়ে বনী মুস্তালিক থেকে আসার পথে যাত্রাবিরতি সময়ে যিনার অপবাদ দেয় সে মুনাফিক৷ মুসলমানদের কাছে স্পষ্ট বাহ্যিক কোন প্রমান মওজুদ না থাকায় জোর গলায় তথাকথিত মুনাফিক পূরো মদীনায় তা ছড়িয়ে দেয়৷ সে ভেবেছিলো সে সফলও হয়ছে৷
মুনাফিকের সামনে সফওয়ান ইবনে মুয়াত্তাল রা. এর হলফ সহ তার  অস্বীকারক্তি তেমন কোন ফলাফল দিচ্ছে না৷ অপরদিকে রাসুল সাঃও পেরেশান হাল৷ তিনিও তো আলিমুল গায়েব নন৷ মোটামুটি আয়েশা রা.এর প্রতি ক্ষেপা ও ক্রোধান্বিত৷ আগের মতো হাল চাল নাই দাম্পত্তের জীবনে৷ স্বাভাবিকই৷ আত্মবোধপূর্ণ মানুষের যে অবস্থা হয় তা ই হলো৷
আয়েশা রা.ও মিথ্যা অপবাদে লজ্জায় মাথানত৷ চলাফেরায় আমূল পরিবর্তন৷ খায় না ঘুমায় না আগের মত৷ সবাই যখন তাঁর বিরুদ্ধে! না বাপ পক্ষে না স্বামী না কোন ভাই৷ কেউই এখন তাঁর না৷ বৎসনা আর তিরস্কার নিয়ে জীবন চলা৷ প্রভুর দরবারে রোনাজলই তাঁর একমাত্র পথের সম্বল৷ দিন যায় আয়েশারও (রা.) দূঃখ বেড়ে চলছে৷ মুক্তির পথ না পেয়ে ভেঙে পড়ছেন ধীরে ধীরে তিনি৷
আসমানের নিচে জমিনের উপরে তাঁর পক্ষে বলার মত বলতে গেলে কেউ নাই৷ নিজের সততার পক্ষে সাক্ষ্য দেয়ার মতো মানুষ নেই৷ কিন্তু আল্লাহ একজন তো মূবীন৷ তিনিই সব কিছুর হাকিকত স্পষ্টকারী৷ মাজলুমের আশ্রয়দাতা৷ দেরী না করে জিব্রিলে আমীনকে পাঠিয়ে সত্যের উন্মোচণ করে দিলেন৷ মুনাফিকদের মূখে চুনকালি মেখে বাস্তবতার উদঘাটন করেন৷ চির জীবনের জন্য আয়েশা রা. এর বারাআত ও সততার স্বাক্ষর দিলেন স্বয়ং প্রভু নিজেই৷
অপরদিকে মুনাফিকদের করে দিলেন আজীবনের জন্য লাঞ্চিত অপমানিত৷ রসওয়ার সিল মেরে দিলেন তাদের ভাগ্য ললাটে৷ আর কোরআনেও দীর্ঘ একটা রুকু নাযিল করে  ইরশাদ করে দিলেন:
﴿إِذ تَلَقَّونَهُ بِأَلسِنَتِكُم وَتَقولونَ بِأَفواهِكُم ما لَيسَ لَكُم بِهِ عِلمٌ وَتَحسَبونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظيمٌ…
তোমরা যেটাকে যত সহজ মনে কর বিষয়টা তত সহজ না৷
এভাবে আল্লাহ একজন মুমিনের ইজ্জত রক্ষা করছেন৷
দুই.
চতুর্থ কিংবা পঞ্চম হিজরির কথা৷ গজওয়ায়ে মুরাইসি'র ময়দানের ঘটনা৷ আনসার মুহাজির দুই সাহাবীর সামান্য কথা কাটাকাটি৷ এক পর্যায়ে রাগের বশীভুত হয়ে পানির ঘাটে অজ্ঞাত মুহাজির সাহাবী আনসারী (রা.)কে পদাঘাত করেন৷ (সম্ভবঃত ইবনে ওয়াবরা রা.কে)
তখন জাহিলী যুগের প্রথা অনুযায়ী মুহাজির সাহাবী মুহাজিরদের কে তার মদদ করতে ডাকে৷ অনুরুপ আনসারী সাহাবী আনসারীদের কে৷ কিন্তু তখনই হুজুর সা. উভয় পক্ষকেই ডাটাইলেন৷ এবং বললেন এ সমস্ত শ্লোগান জাহিলী প্রথা তা বর্জন কর৷ ঘটনা মিটমাট৷ তৎক্ষনাৎ সবকিছুর সমাধান হয়ে গেল৷
অপরদিকে সুযোগ সন্ধ্যানী মুনাফিক ইবনে উবাই উস্কানীমূলক বক্তব্য দিয়েই চলছে অবিরত৷ মুহাজিরদের বিপক্ষে আনসারদেরকে ক্ষেপাতে লাগল একে একে৷ তাঁদেরকে প্রতিশোধের প্রতি প্রলুব্ধ করতে থাকে ধীরে ধীরে৷ প্রথমে তো বলে উঠলো: سمن كلبك يأكلك  অর্থাৎ যে কুকুরকে খাইয়ে দাইয়ে মোটা করলে তা ই তোমাদেরকে খাবে৷ তথা নিজের পোষা কুকুরই একদিন মালিকের ঘাড় চেপে বসবে৷(!)
মুনাফিক বুঝাতে চাইলো মুহাজিররা হলো কুকুর আর আনসাররা হলো মালিক৷ (আল আয়ায বিল্লাহ)
দ্বিতীয়তে আনসারদের কাছে বলে  বেড়াতে লাগলো: এবার মদীনাতে গিয়ে এ সমস্ত কমিনা নির্বাসিত মুহাজিরদের কে সম্মানিত লোকদেরকে থেকে বের করে দিবে৷ মানি হলো মুহাজিররা হলো যলিল ও কমিনা শ্রেনীর লোক৷(নাঊযুবিল্লাহ)
অন্যদিকে তার এ খবর ছড়াছড়ি ও মিথ্যা প্ল্যান প্রোগ্রাম সাহাবী যায়েদ ইবনে আরকাম রা. শুনে ফেলেন৷ তিনি শুনে তাঁর চাচার কাছে বলেন৷ তাঁর চাচা গিয়ে মুনাফিকের এ খবর হুজুরের কানে পৌঁছিয়ে দেয়৷ তৎক্ষনাৎ হুজুর সা. ঘটনা তদন্তের জন্য আব্দুল্লাহ ইবনে উবাইকে ডাকলেন৷ ঘটনা কি সত্য বা তার বক্তব্য কি সঠিক জানতে চাইলে সঙ্গে সঙ্গে তার আসল চরিত্রের পর্দা খুলে৷ মুনাফিক তা সম্পূর্ণ অস্বীকার করে বসে৷ বরং হলফ ইত্যাদিও করে ফেলে! রাসুল সা. সামনে সে মিথ্যা বলে পূরাই সূফী সেজে গেল! মুনাফিক তো মুনাফিকই৷ কি আর আশা করা যায়!
অপরদিকে মিথ্যা অপবাদ চাপাতে লাগলো সাহাবী যায়েদ রা. এর উপর৷ এখন সবাই তাঁকে শাসাতে থাকে৷ ধমকি হুমকি খেয়ে তিনি এখন নিশ্চুপ৷ সত্যবাদী হয়েও কখনো সাময়িক বিপদ আসে তার জ্বলন্ত প্রমান এখন তিনি৷ তবে জানা কথা, সত্যের ঝপরিণাম খুবই ভালো
থাকে৷ জু ভি হো…
কিন্তু আল্লাহ মিয়াঁ! যিনি মাজলুমের মদদগার৷ জালিমের প্রতিশোধ বরণকারী৷ যিনি সবকিছু করতে পারলেও জুলুম করতে জানে না৷ জুলুম তাঁর সিফাতে নেই৷ বিলকুল নেই৷ কারো জন্যই নয়৷ সাহাবী যায়েদ ইবনে আরকাম রা. এর ইজ্জত রক্ষায় তিনি জিব্রিল অাঃ কে পাঠিয়ে সূরায়ে মুনাফিকুন নামে একটা সূরা নাযিল করে সত্যকে দিবালোকের ন্যায় স্পষ্ট করে তোলেন৷ আর ঘোষণা দিলেন তাদের কথা:
﴿يَقولونَ لَئِن رَجَعنا إِلَى المَدينَةِ لَيُخرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنهَا الأَذَلَّ وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسولِهِ وَلِلمُؤمِنينَ وَلكِنَّ المُنافِقينَ لا يَعلَمونَ﴾
আর যায়েদ রা.এর সততার প্রমান করে দিলেন তিনি৷ উক্ত সূরায়ে তিনি ই'তেকাদী নিফাক ও আমলী নিফাকের আলোচনা করেন৷ এবং মুনাফিকদের অমার্জনীয় অপরাধ ক্ষমা করার মতো নয় তাও জানিয়ে দিলেন:
﴿سَواءٌ عَلَيهِم أَستَغفَرتَ لَهُم أَم لَم تَستَغفِر لَهُم لَن يَغفِرَ اللَّهُ لَهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِي القَومَ الفاسِقينَ﴾
মুনাফিকদেরকে আল্লাহ মাফ করবেন না৷  এভাবে তিনি আল্লাহ একজন মুমিনের ইজ্জত রক্ষা করছেন৷
আফছোছ! নুযুলে কোরআনের যমানা বর্তমানেও যদি থাকতো আমাদের মধ্যে কতজনেরই না সম্পর্কে কোরআন নাযিল হতো! আজ অামরা ভাই ভাইয়ের ইজ্জত নষ্ট করি৷ খোজ করলে দেখা যাবে এর পেছনে হিংসাত্বক মনোভাব ছাড়া কিছুই নেই৷ কেন আমরা অন্যের ভালাই দেখতে পারবো না! কেন আমাদের এত নিচু ও হীন চিন্তা হবে৷ শরীয়ত তো আমাদের জন্য হিংসার পরিবর্তে রিশ্ক তথা ঈর্ষার অনুমতি দিয়েছে৷ ভালো কাজের প্রতিযোগিতার প্রতি তো ইসলাম তো আমাদেরকে উদ্বুদ্ধ করে৷ তাহলে কেন আমরা অন্যের সম্মানে আঘাত করতে যাবো! কারো স্পষ্ট গোমরাহী ভ্রষ্টতা না পেলে কেন আমরা তার পিছে পড়বো! তাকে নিয়ে সমালোচনা করবো!
তাই আসুন মেরে দোস্ত! উদার হতে শিখি৷ বিনয়ী হতে শিখি৷ অন্যকে সম্মান দিতে জানি৷ নিজেও যোগ্য হই৷ যোগ্যতার সাথে যোগ্যতা দিয়েই লড়তে হয়৷ অন্যকিছু দিয়ে নয়৷ যবানকে সংযত রাখি সংযমী হই৷ আজ আমরা শুধু সমালোচনাই করি না বলকেহ বড়দেরকে নিয়েও মিথ্যাচারও করি! নিজের অজান্তে অগোচরে আকাবির আসলাফের শানে বেয়াদবিও করে বসি৷ দ্বীনের জন্য এক হয়ে যাই৷ প্রতিপক্ষ না হয়ে সহযোগী হই৷

            বিঃদ্রঃ- নিজেকে নিজে৷
                             ৷|৷
       
                ০১/০৪/২০১৮ঈসায়ী

বরফে গপ্পবাজি

_____নাজমুল ইসলাম কাসিমী  

আজ ভ্রমণের দ্বিতীয় দিন। শুয়ে আছি বরফে আবৃত এক টুকরো রাজপ্রাসাদে। রিমঝিম করে তুষার পড়ছে চারপাশে। ভেলি গাছের সবুজ পাপড়িগুলোর ওপর জমাট বেঁধেছে একগাদা বরফ। আমি দরজার ওপাশে, বিছানায় শুয়ে এদিক-ওদিক হচ্ছি বারবার। মাথায় কিলবিল করছে শব্দমালা। মন চাচ্ছে বাক্যের ফুলঝুড়ি আর সরলশান্ত শব্দের গাঁথুনির স্নিগ্ধতা দিয়ে মোহনীয় করে দিই পুরো পৃষ্ঠাকে। কিন্তু না! ভুরি ভুরি বিচিত্র আর যন্ত্রণাদগ্ধ অনুভ‚তি এবং আকাশস্পর্শী স্বপ্নের এভাবে মুহূর্তেই ইতি টানব না। এসব ভাবতেই দোস্ত মারুফ ডাক দিল। কিরে উঠবি না, বাইসারান (মিনি সুইজারল্যান্ড) যাওয়ার সময় হয়ে গেছে। চোখ মেলেই দেখি দরজার সামনে গাড়ি প্রস্তুত। জিজ্ঞেস করলাম, এই গাড়িতে করেই যাব নাকি? ওপাশ থেকে সাজ্জাদ বলল, আরে নাহ! ওখানে গাড়িতে করে আবার যাবে কেমনে। ঘোড়ায় চড়ে যেতে হবে। পাশ থেকে নাঈমের হাসিটা চরম লাগছিল। ঘোড়ায় করে! এত টাকা কই পাব। বাইসারান ঘোড়ায় করে যেতে হলে প্রত্যেককে গুনতে হবে হাজার রুপি। দাদা রাশেদ; খুব চঞ্চল টাইপের। যার চঞ্চলতা আমাদের ভ্রমণকে দিগুণ আনন্দিত করেছিল। বলল, আসছি এন্টারটেইনমেন্টের জন্য, হেঁটেই যাব। তাছাড়া বরফে হাঁটব আর গপ্পবাজি করব সেটাওতো কম না। হুম, মারুফের এক ধমকেই সবাই বাসা থেকে বেরিয়ে পড়লাম। ডিএসএলআর হাতে আসলাম ভাই খুব মজার মানুষ। অনবরত ক্লিক করছেই। সঠিক পোজে ক্লিক হচ্ছে কি না, সেটা দেখার সময় নেই। আমরা এগোতে থাকলাম, স্বপ্নপুরির দিকে। ১০ ফিটের রাস্তা পুরো ছয় ফিট গিলে ফেলছে বরফে। এভাবে মিনিট দশেক হাঁটার পর নজরে পড়ল বরফে মোড়ানো পর্বতশৃঙ্গ এবং পাইন গাছের সবুজ ভ্যালিগুলো। দেখতে খুবই মনোরম। আগ থেকেই জানতাম, কাশ্মীরের পেহেলগাম প্রাকৃতিক সৌন্দর্য, জলবায়ু, ক্যাম্পিংসহ বলিউডের মুভি দৃশ্যের শুটিংয়ের জন্য বিখ্যাত। এ জন্যই বোধহয় এখানে পর্যটকদের এতো ভিড়। তাছাড়া কাশ্মীর ভ‚স্বর্গ বলে কথা! যেখানে যেয়ে স্বয়ং মোগল সম্রাট জাহাঙ্গীর নাকি বলেছিলেন, ‘পৃথিবীতে যদি কোথাও স্বর্গ থাকে, তবে তা এখানেই আছে, এখানেই আছে এবং এখানেই আছে।’ এমন জায়গায় কে না যেতে চায়? আমাদের ভ্রমণেরও সবচেয়ে আকর্ষণীয় গন্তব্য ছিল পেহেলগাম। যেখানে একসঙ্গে আছেÑ লিডার নদী, পেহেলগাম ভ্যালি, বেতাব ভ্যালি, আরু ভ্যালি, চন্দনওয়ারি, পেহেলগাম ভিউপয়েন্ট, বাইসারান, ধাবিয়ান, কাশ্মীর ভ্যালি ভিউপয়েন্ট, কানিমার্গ, ওয়াটারফল, তুলিয়ান ভ্যালি, মামলেশ্বর মন্দির, কোলাহাই হিমবাহ ইত্যাদি। প্রতিটি স্থাপনায় ঘোড়া এবং হেঁটে যাওয়া যায়। এ ক্ষেত্রে গোড়ায় চড়লে একটু কষ্ট কম ও অ্যাডভেঞ্চার হয়। আমরা হেঁটেই সামনে এগোতে থাকলাম। একে তো ঠাÐা আবার বরফ গলা পানি জমে পাহাড়ের মাটি ও পাথুরে রাস্তায় কাদা তৈরি হয়ে পাহাড়ে আরোহণ অসম্ভব হয়ে পড়ছে সবার। কনকনে শীতে সবাই হা-হু করছে। এ ছাড়া পর্বত বেয়ে ওপরে উঠতে ছিল চরম ভয়ও। পদে পদে ছিল ভয়ের সঙ্গে রোমাঞ্চকর অ্যাডভাঞ্চার; যা সারা জীবন মনে রাখার মতো একটি জার্নি। সৃষ্টিকর্তার পরিচয় তার অপরূপ সৃষ্টিতে সেটা দেখতে হলে কাশ্মীর আপনাকে যেতেই হবে। আমরা হাঁটলেও অনেক বিদেশি পর্যটক ঘোড়ায় করে চ‚ড়ায় উঠছেন। আল্লাহপাক এই পশুটিকে যে অসাধারণ ক্ষমতা প্রদান করেছেন, তা বলার অপেক্ষা রাখে না। সাদা-কালো বিদেশি পর্যটকরা ঘোড়ায় করে এগোচ্ছেন। আমরা বরফ ঠেলে হাঁটছি। ক্ষুধায় তখন পেট আমাদের শাঁ শাঁ করছে। বাঙালি আমরা; ভুল করিনি। সঙ্গে নিয়ে যাই কলা-রুটি। কিছু দূর যেতে না যেতেই দোস্ত হেলাল গা এলিয়ে দিল বরফে। কথা একটাই তার, আর এক কদমও সামনে আগাব না। কিছু খেতে দে। কি আর করা। সবাই এই ঠনঠনে বরফে গোল হয়ে বসে পড়লাম লাঞ্চ করতে। আশপাশের পর্যটকরা আমাদের এমন ভাবসাব দেখে অবাক। আজীব তো! এরা কি তাহলে খেতে এসেছে। এদের খাওয়া দেখে মনে হচ্ছে, কোনো রেস্টুরেন্টে বসে আছে। সামান্য লাঞ্চ করে আবার উঠে দাঁড়ালাম আমরা। এখনো কিলোমিটার দুয়েক বাকি। এদিকে মোবাইলে ডাটার টানাপড়েন। কেউ ফেসবুকেও ঢুকতে পারছে না। আমাদের পেছনে ছিল দুই চায়না ফ্রেন্ড। তাদের সম্পর্ক বয়ফ্রেন্ড-গার্লফ্রেন্ড। তখনো এটা জানতাম না। সামনে দু-চার কদম এগোতেই কথার ফাঁকে ফাঁকে এমনটাই বুঝলাম। লোক দুটো হিন্দি বোঝে না। তাই কারো সঙ্গে গপ্পবাজি করতে পারছে না। কাশ্মীর গেলে হিন্দি জানাটা বেশ ভালো। কাশ্মীর বেড়ালে বুঝে আসে হিন্দি ভাষার কী কদর। সবার সঙ্গে শুরুতে ধাপ্পাবাজিটা আমিই বেশ নিয়েছিলাম। বলছিলাম, আরে যত কিলোমিটার হোক না কেন, আমি হেঁটেই পার হব। এবার আমিই প্রথম থ হয়ে গেলাম। পা আর এগোচ্ছে না। কেডস ভেদ করে পায়ের মোজা অবধি পানিতে ভিজে আছে। পা ফ্রিজ হয়ে আছে। এমন অবস্থা দেখে চায়না বন্ধুগুলো মজা নিচ্ছিল। বোধহয় মনে মনে বলছিল, অনেক তো ভাব নিয়েছ, এবার বোঝ! না, এবার কষ্ট চাপা দিয়ে ফের উঠে দাঁড়ালাম। আর মাত্র এক কিলোমিটার দূর মিনি সুইজারল্যান্ড; সেটা ভাবতে ভাবতে পৌঁছেই গেলাম। হাজার হাজার পর্যটক। সবার অবস্থাই নাজুক। মিনি সুইজারল্যান্ড পুরোটা এখন বরফে সাদা। ভেলি গাছের পাতায় পাতায় জমে গাদাগাদা বরফ। পৌঁছে আমি প্রথমেই সোজা চলে গেলাম তাঁবু করে সাজিয়ে বসা চাউমিন দোকানে। ভারতে নুডলসকে ওরা চাউমিন বলে। ভালো লাগছিল, চাউমিনের মূল্যটা মোটামুটি সাশ্রয়ী ছিল। চার বন্ধু মিলে কোনোরকম তিনটি চাউমিন ভাগাভাগি করে ক্ষুধা কিছুটা নিবারণ করলাম। কিন্তু তখনো পা আমার অবশ। ভ্রমণের স্বাদটা যেন চলনেই শেষ হয়ে গেল। আমি আর দাঁড়াতে পারলাম না। সবাই যে যার মতো সেলফি তুলছে। স্কাউটিং করছে। বরফ মাখামাখি করছে। আমি নীরব দর্শক সেজে দেখছি। এক বিদেশি বন্ধু বলল, ‘ইধার আইয়ে। আওর আপকি মোজা তুড়াছা গরম করলি জিয়ে।’ ভাবলাম, তাইতো, সেটাই করা যায়। মিনিট দশেক আগুনে পা-টা রেখে বন্ধুদের পিড়াপীড়িতে দাঁড়ালাম এবং আশপাশ ঘোরাঘুরি করে মিনি সুইজারল্যান্ডের কিছুটা স্বাদ নিলাম। সত্যিই অসাধারণ স্পট! দেখলে তবে ফিরতে মন চায় না। কিন্তু বিকেল এখন ৪টা। আবার আমাদের হেঁটে নামতে হবে। ফেরার রুটিন ছিলÑ আসতে আসতে সুন্দর সব লোকেশনে পিকচার ওঠানো। শুরু হলো ক্লিক। সঙ্গে বন্ধুদের দুষ্টুমি আর বরফ দিয়ে একে-অন্যকে ঢিল মারা। এবার কষ্ট অনুভ‚ত হলো না। দুষ্টুমি করতে করতে কখন যে নিচে নেমে এলাম, টেরই পেলাম না! মেইল: nazmulislamqasimi@gmail.com

Tuesday, 17 April 2018

বেফাকের জনক কে?

                                                                              

উবাইদুর রহমান খান নদভী

ইসলামপন্থীদের একটি সমন্বিত ও ঐক্যবদ্ধ শক্তি গড়ে তোলার প্রয়োজনীয়তার ওপর বিশেষভাবে গুরুত্বারোপ করেছেন দৈনিক ইনকিলাবের সহকারী সম্পাদক মাওলানা উবায়দুর রহমান খান নদভী।

তাত্ত্বিক দ্বন্দ্ব পরিহার করে ইসলামী ঐক্যের চেতনাকে শাণিত করার প্রয়াস চালাতে সকল ইসলামী দল, সংগঠন ও ব্যক্তিত্বের প্রতি আহ্বান জানিয়ে তিনি বলেন, এখন প্রয়োজন সকলে ঐক্যের বন্ধনে আবদ্ধ হওয়া। দরকার ইসলাম-কেন্দ্রিক রাজনৈতিক, সামাজিক ও অন্যান্য বিষয়ে নিবিড় চিন্তা-ভাবনার প্রকাশ ঘটানো। সকল ক্ষেত্রে ইসলামী চিন্তা-ভাবনার জগতে উন্নতি ঘটানো, মানুষের মানবিক, জাগতিক ও সাংস্কৃতিক চিন্তা এবং সমাজের মনোভূমিতে শৃংখলা আনয়নের অনুভূতি জাগ্রত করার প্রয়াস চালানো ইসলামপন্থীদের মিশন হওয়া উচিৎ ।
পুরানা পল্টনস্থ মাওলানা আতহার আলী রহ. মিলনায়তনে বুধবার রাতে নেজামে ইসলাম পার্টির বিষয়ভিত্তিক আলোচনাসভায় মাওলানা নদভী এসব কথা বলেন। মাওলানা আবদুল লতিফ নেজামীর সভাপতিত্বে এতে ইসলামী ঐক্যের প্রয়োজনীয়তার ওপর আলোচনা করেন মাওলানা আলতাফ হোসেন, আনসারুল হক ইমরান, মাওলানা শেখ লোকমান হোসেন, মাওলানা মমিনুল ইসলাম, পীরজাদা সৈয়দ মুহাম্মদ আহসান, আবদুল্লাহ আল মাসুদ ও মুহাম্মাদ নুরুজ্জামান ।
উবায়দুর রহমান খান নদভী নেজামে ইসলাম পার্টির প্রতিষ্ঠাতা সভাপতি আল্লামা আতহার আলীকে বেফাকের জনক হিসেবে আখ্যায়িত করে বলেন, তিনিই ১৯৬৮ সালে তদানিন্তন পাকিস্তানে প্রথম বেফাক প্রতিষ্ঠা করেন এবং পরে কিশোরগঞ্জের জামিয়া ইমদাদিয়ায় বেফাক প্রতিষ্ঠা করেন। স্বাধীনতা উত্তর বাংলাদেশে পটিয়ার হাজী ইউনুছ সাহেব, শায়খুল হাদিস আল্লামা আজিজুল হক ও মাওলানা মুহিউদ্দিন খানসহ অন্যান্যের সহায়তায় বেফাক পুনঃপ্রতিষ্ঠা করেন। মাওলানা হাজী ইউনুছ, মাওলানা হারুন ইসলামাবাদী, মাওলানা নুরুদ্দিন গওহরপুরি পর্যায়ক্রমে বাংলাদেশ বেফাকের চেয়ারম্যানের দায়িত্বপালন করে গেছেন এবং বর্তমানে আল্লামা আহমদ শফী বেফাক চেয়ারম্যানের দায়িত্বপালন করছেন।
আবদুল লতিফ নেজামী বলেন, মুসলিম জনগণ যখন পুঁজিবাদের রক্ষক সাম্রাজ্যবাদী, আধিপত্য ও সম্প্রসারণবাদী শক্তির আগ্রাসন প্রতিরোধ আকাঙ্ক্ষায় জেগে উঠেছে সেই মুহূর্তে, ইঙ্গ-মার্কিন-ইহুদী-ব্রাহ্মণ্যবাদী নানা ইস্যু সৃষ্টি করে মুসলমানদের অস্তিত্ব নস্যাতের কৌশল হিসেবে তাদের এজেন্টদের দিয়ে মুসলিম দেশের অভ্যন্তরে সন্ত্রাসী কর্মকাণ্ডের মাধ্যমে বিশৃংখলা সৃষ্টি করে তা গ্রাস করার আবহ তৈরি করে চলেছে। এই অশুভ শক্তি স্বাধীনতা-সার্বভৌমত্বসহ মুসলিম জনগণের স্বতন্ত্র জাতীয়তাবোধ, আদর্শ, ইতিহাস-ঐতিহ্য, রীতি-নীতি, তাহযিব-তমদ্দুন, ধর্মীয় বিশ্বাস ও মূল্যবোধ এবং সাংস্কৃতিক স্বাতন্ত্র্যের চেতনাকে ধ্বংস করার লক্ষ্যে মুসলিম দেশগুলোকে নানা সংকটের মধ্যে নিক্ষিপ্ত করার অপপ্রয়াস চালাচ্ছে। এই লক্ষ্যে সাম্প্রতিককালে উদ্ভট চিন্তা-চেতনার আবর্তে তাড়িত এক শ্রেণীর যুবকদের মাধ্যমে বাংলাদেশসহ মুসলিম বিশ্বে সন্ত্রাসী তৎপরতা চালানো হচ্ছে।
তিনি আরো বলেন, এহেন পরিস্থিতিতে ইসলামী দল, সংগঠন ও ব্যক্তিত্বের উচিৎ হবে সন্ত্রাসের বিরুদ্ধে জনমনোজগতে ইসলামী জাগরণের নবযুগ সৃষ্টি ও মুক্তির নবচেনায় উদ্দীপ্ত করা। যেন নতুন জাগরণের প্লাবনে সকল কলুষ ধুয়ে মুছে যায়।

সাক্ষাৎকার:-কওমী নিউজ

মুক্তির মাস

মুআয আল জুহানী

----------------------

বছর ঘুরে আবার এলো,
দয়া,ক্ষমা,মুক্তির মাস।
মুছে দেবে সকল গুনাহ
অপরাধ সব করবে বিনাশ।

বছর মাঝে সে যে
আসে একবার,
শেখায় দাড়াতে,গরীবের পাশে,
জীবনকে করে দুর্বার।

তারি বরকতে শয়তানের
পায়ে লেগে যায় তালা,
জান্নাতের সকল দুয়ার
 তখন,হয় যে খোলা।

দায়িত্বেরবোঝা কর হাল্কা
অধিনস্তদের,
হাশরের দিন কমবে বোঝা
তোমার গুনাহের।

রহম করো গরিবকে
খাওয়াও রোযাদারকে,
পাবে সমান সওয়াব,আবার
 কমবে না তাদের থেকে।

রাতে দাড়াও নামাজে
দিনে রাখো রোযা,
খোদার জান্নাতে,
প্রবেশ  করো সোজা।

আরো কত ফযিলত
আছে রমযানের,
এর একটি আছে
তার সুসংবাদের।

শেষ হলো রাত ২.২০ মিনিট।
২৭/৫/২০১৭ইং
কাব্যিক প্রাণ অনেকটাই যেন মরে গেছে।বহুদিন যাবত কবিতার সাথে সম্পর্ক না থাকার কারণে।তাই কেমন যেন রস ছাড়া কবিতা হয়েছে।ছন্দগুলোর মাঝেও খুব একটা মিল নেই।

বিদায়


        মুআয আল জুহানী


বেজে উঠেছে বিদায়ের ডংকা
গর্জে ভারী জাহান,
চলে যাবো তোমাদের ছেড়ে
চাই ক্ষমা অফুরান।

পাশে ছিলে সর্বদা ক্ষমা, দয়া,
সহযোগিতা নিয়ে,
করতে পারিনি তোমাদের কদর
ভালোবাসা দিয়ে।

সর্বদা শুধু দিয়েছি কষ্ট,করেছি
শত অপরাধ,
ক্ষমা করে দিয়ো বন্ধু,করেছি
যত বিবাদ।

জানি,যদি গুনো আমার ত্রুটি
ভরবে গুটা পৃথিবী,
সে সাথে এটাও জানি,আরো  বড়ো
তোমার ক্ষমার সুরভি।

বন্ধু, বিদায় লগ্নে তোমার কাছে
একটি আমার দাবি,
মাফ করে দিবে সকল অন্যায়
ভুলে যাবে সবি।

পরিশেষে তোমার কাছে একটি
আমার চাওয়া,
ভুলবেনা মোরে চিরতরে, স্মরিবে
যখন করো দোয়া।

শেষ  হলো  ৩০/৫/২০১৭ ইং,বিকেল ৪.১০ মিনিট।

জাগো হে মুসলিম


মুআয আল জুহানী


জাগো আজ ওহে,মুসলিম দেখো
কাঁদছে মায়ানমার,
সেথা আজ বাজে প্রলয় বিষাণ
নিরীহ মানবতার।

জাগো জাগো জাগো জাগো মুসলিম
সময় হয়েছে আজ,
পরো শির পরে নির্ভীক হয়ে
বিদেহী বীরের তাজ।

তুমি কাসিমের বীর সন্তান
বিদ্রোহী রণবীর,
তুমি খালিদের খোলা শমশের
উন্নত তব শির।

শুনো আরাকানে নিস্পাপ শিশু
মা-বোনের আহাজারি,
হয়ে রণসাজে সজ্জিত তুমি
ছোটে চলো তাড়াতাড়ি।

তপ্ত খুনের বহিতে নহর
হও তুমি আগুয়ান,
তুলো তাকবীর গেয়ে গেয়ে চলো
জিহাদের জয়গান।

চলো দূর্বার করো চুরমার
যালিমের বিষদাঁত,
ধরা বুক থেকে করো চিরতরে
যু্লুমের উৎখাত।

জাগো মুসলিম জাগো জাগো জাগো
তুমি চির নির্ভয়,
অক্ষয় তুমি বিধাতার সেনা
তোমারই হবে জয়।

বাল্যবিয়ে নয়! বাল্যপ্রণয়!!!

মুআয আল জুহানী


চতুর্দিকে আজ একি আওয়াজ, একি গুঞ্জরণ।
বাল্যবিয়েকে না বলুন।
কুড়িতে বুড়ি নয় বিশের আগে বিয়ে নয়।

হয়তবা অনেকে খারাপ ভাবতে পারেন।অনেকে হতে পারেন ক্রুধান্বিত।

কিন্তু একটু চিন্তা করুণ।।
একটু ভাবুন।।
সমাজের চিত্রটা সামনে আনুন।

 গত ২৬তারিখ দেওবন্দ সফরে এসেছিল দিলশাদ নামক এক লোক বাসা তার দিল্লী ।মাদানি গেইটের সামনে তার সাথে সাক্ষাত। তাকে দেখে খুব বিষন্ন মনে হচ্ছিলো।
আভিজাত্যের ছাপও ছিলো তার চেহারায় স্পষ্ট।

সালাম দিলাম তাকে। কিছু কথাবার্তা হলো।মোটমোটি ফ্রি হয়ে গেলাম তার সাথে।
আমি বললাম :কি হয়েছে, এত বিষন্ন দেখাচ্ছে কেন আপনাকে ?

সে বললো:আমার মেয়েটা দিল্লী ইউনিভার্সিটিতে অনার্স থার্ড ইয়ারে পড়তো।বয়স তার একুশ।আমি ভাবলাম মেয়েটাতো বড় হয়েছে,বিয়ে দেয়া দরকার।আমি ওরজন্যে একটা ছেলে পছন্দ করি।
ছেলের পরিবারের সাথে কথা বলে মেয়েকে দেখার একটা তারিখ ও নির্ধারণ করি।কিন্তু যখন আমি আমার মেয়েকে বললাম, আজ তোকে দেখতে আসবে,বাসায় থাকিস।
তখনি ঘটে বিপত্তি। ও বললো বাবা আমি আয়েযকে ভালবাসি।আমি বিয়ে বসলে ওর কাছেই বসবো।(আয়েয আমাদের পাশের বাসার ছেলে।ওর একটা দোকান আছে মুদির ওটা দিয়েই ও চলে।ছোটবেলায় ও আমার  মেয়ে মালিহার সাথে পড়তো।মুলত তখন থেকেই হয়েছিল তাদের মাঝে প্রেমটা।ও জনিয়েছে দশ বছর যাবত চলছে ওদের এ অবৈধ প্রণয়।)তখন আমি ওকে খুব করে বুুঝাই,দেখো মা এখানে তোমার শান্তি হবে না।তুমি একটা শিক্ষিত মেয়ে,তুমি এমন বলতে পারো না মা।আমি তোমাকে এতদিন কেন পড়িয়েছি মা?শুধু এ জন্যেইতো যে,তুমি আমাদের মুখ উজ্জল করবে।তোমাকে আমাদের পছন্দের একটা ভালো জামাই দেখে বিয়ে দেবো।মা তুই আর কোন কথা বলিস না, যা হয়েছে মন থেকে মুছে ফেল।আর ভালোভাবে রেডি হয়ে থাকিস।আমি জুহরের নামাজ আদায় করেই ওকে নিয়ে আসবো।

আমি চলে যাই কিছু বাজার সদায় করতে হবে বলে।কতক্ষণ পর বাজার নিয়ে ঘরে ফিরে,ওকে ডাকলাম। কিন্তু ও কোন উত্তর দিচ্ছিলো না।আমি বারবার ডাকতে লাগলাম  মালিহা!মা মালিহা!কোথায় আছিস তুই মা?কিন্তু কোন উত্তর নেই। আমি ওর রুমের সামনে গেলাম।দেখি ভেতর থেকে দড়জাটা আটানো।আঘাত করি দড়জায়।না তবুও কোন উত্তর নেই।অবশেষে উপায়ন্তর না হয়ে, দড়জা ভেঙ্গে ভেতরে প্রবেশ করি।
দেখি ওর প্রাণহিন লাশটা ঝুলে আছে ফ্যানের সাথে।(ততক্ষণে কান্নায় তার গন্ডদ্বয় ধৌত হয়েছে।)
সে বলে যেতে লাগলো,ওর আম্মু পাঁচ ছয় বছর আগে বলেছিলো,ওকে বিয়ে দেয়ার কথা।কিন্তু আমি তখন বলেছিলাম মেয়ে এখনো ছোট।এখনি না,পরে।
কিন্তু ও যে দশ বছর আগেই বড় হয়ে গেছিলো সেটাতো আমি বুঝতে পারিনি।

আহ যদি ওকে দশ বছর বয়সে বিয়েটা দিয়ে দিতাম।প্রয়োজনে এখন উঠিয়ে দিতাম। আর এতদিন ও পড়তে থাকতো।তাহলেতো আজ আমার এ অবস্থা দেখতে হতো না।

তার শেষের কথাগুলো আমার কাছে খুব যুক্তিসম্মত মনে হলো।সত্যিইতো যদি প্রত্যেকটা ছেলে মেয়েকে দশ এগারো বছর বয়সে বিয়ে করানো হতো,আর উঠিয়ে নেয়া হতো কয়েক বছর পর।ওদিকে ওরা লেখা-পড়াও চালিয়ে যেতো।আর প্রেম করার মন চাইলে ওর সাথে করতো,তাহলে আজ সমাজ এতো অবক্ষয়ের শিকার হতো না।

আজ এটা শুধু আয়েয ও লামিহার গল্পই নয়,বরং ফাইভ সিক্স পড়া প্রত্যেকটি ছেলের অবস্থা।এ ইন্টারনেটের যুগে,এথেকে উত্তরণের একমাত্র উপায় হলো বাল্যবিবাহ।কেননা আজ প্রাপ্তবয়স্ক হতে ছেলে মেয়েদের আঠারো বছর না, পনেরো বছরো না,দশ বছরি যথেষ্ট।
বিয়ের পর দুজনি পড়ুক।এবং স্বামির বাড়িতে উঠিয়ে নেয়ার কাজটা হোক প্রয়োজনে একটু দেরিতে।

তাহলে দেখবে রাস্তা ঘাটে কোথাও না হবে কোন ইভটিজিং, আর না মরবে লামিহারা গলে ফাসি লাগিয়ে।
আল্লাহ আসান করো।আমাদের সমাজকে রক্ষা করো।আমিন।

আজমীর সফর(২)

মুআয আল জুহানী


বাহিরে প্রচন্ড শীত।রাজস্থানেরর রাজধানী জয়পুরে আমরা অবতরন করলাম।রেল স্টেশনটাও কেল্লা টাইপের।কিছু মিনারা নিয়ে দাড়িয়ে আছে শতবছরের পুরোনো ঐতিহাসিক স্টেশনটি।সামনে স্থাপন করা হয়েছে গান্ধীজীর বড় বড় চশমা পরা বৃহদাকার একটা মূর্তি।পাশেই তার দাড়িয়ে আছে লাল কাপরের শার্ট ও মাথায় লাল বেরী পরা কিছু লোক।দেখে মনে হচ্ছিলো সিনেমার এক্টার ফেক্টার হবে।আমি এমনি একটু কৌতূহলী।আবার কিছু লোককে দেখলাম দাড়িও আছে।আমার উৎসুক চিত্ত কিছুতেই দমলো না।এগিয়ে গেলাম একজন দাড়ি ওয়ালা ভায়ের কাছে।জিজ্ঞেস করলাম, তারা আসলে কি?

তিনি উত্তর দিলেন,আমরা সকলি কুলি,এবং আমরা সকলি মুসলমান।তিনি এটাও বললো,এখানে যতসব ড্রাইভার দেখছো তারাও মুসলমান।এখানে মুসলমান সংখ্যা গরিষ্ঠ। মনে আনন্দ পেলাম উনার এ কথাটা শুনে।কিন্তু পরক্ষণেই মনটা ব্যথায় চিনচিন করে উঠলো,মুসলমান সকলে কুলি হওয়ার কথা ভেবে।
জিজ্ঞেস করলাম সবাই কুলি কেন, অন্যকিছু করে না?
বললো করে,ড্রাইভারি,লিফটের কাজ,ব্যবসা ইত্যাদি।
ফের জিজ্ঞেস করলাম, শিক্ষিত কেউ নেই?সরকারী চাকরি করে?
বললো তিনি, কলেজ পাশ অনেক শিক্ষিতই আছে,কিন্তু সরকারি চাকুরী কারো ভাগ্যেই জুটে না।অপরাধ তার,সে মুসলিম।আমিও বি এ পাশ।
আমাদের ঘারে আজ গোলামী চাপিয়ে দিয়েছে।
এখানেই একদিন আমাদের বাপ দাদারা শাসন করেছে।আজ আমরাই এখানে গোলামীর জীবন যাপন করছি।বলতে বলতে ভায়ের শশ্রুমন্ডলী অশ্রু বন্যায় সিক্ত হয়েছে। আমিও কিছু বলতে পারছিলাম না,কান্নার চাপে।কিছুক্ষণ পর কান্নাকে কিছুটা দমিয়ে তাকে শান্তনা দিলাম,আর বললাম সর্বকালই যে কোন জাতির পতন হয়েছে শুধু দায়িত্বহীন কর্ণধার ও গাদ্দারদের কারণে।আর তার মাশুল দিতে হয়েছে সাধারন জনগণের।

অবশেষে শান্ত্বনা স্বরুপ বললাম,সে যাইহোক তোমাদের পিছিয়ে গেলে চলবে না।
তোমরা কখনো হীনমন্য হয়ো না।
লেখা -পড়া চালিয়ে যাও।সন্তানদের শিক্ষিত বানাও।
শিক্ষাই জাতির মেরুদণ্ড। একদিন আমরা, আমাদের সে হারানো ক্ষমতা ফিরে পাবো ইনশাল্লাহ।

স্বাধীনতা যুদ্ধের অগ্রনায়ক, আহবায়করা মুসলিম নেত্রীবৃন্দ হওয়া সত্বেও আজ আমরা এমন নিগৃহীত, বঞ্চিত, লাঞ্চিত।কেন?শুধু মাত্র ক্ষমতা না থাকার কারণে।
তাই তোমরা শিক্ষিত হও।ক্ষমতা অর্জন করো।তোমার অধিকার তোমাকেই আদায় করতে হবে।
আবারো চাই একটা বিপ্লব।

তখনি উপস্থিত হলো এক শিখ।উনি দুআ কি দরখাস্ত হ্যায়,বলে চলে গেলো।

চতুর্দিকে আযান দিতে শুরু করেছে মুআযযিনগণ।
এখনো আসেনি আমাদের ইস্তেকবালকারী।
দাড়িয়ে রইলাম অপেক্ষায়,,,,
চলবে,,,,, ইনআশাল্লাহ,,,

আজমীর সফর

মুআয আল জুহানী


বিদ্যুৎ গতিতে এগিয়ে চলছে ট্রেন।।।

(এক সপ্তাহ হয়ে গেলো সফর থেকে ফেরার,কিন্তু দরস শুরু হয়ে যাওয়ায় লেখার সময় করে উঠতে পারছিলাম না।
আজ বৃহস্পতিবার। ভাবলাম ছোট করে একটু লিখে ফেলি।)

ডিসেম্বর মাসের ১৯ তারিখ। বুখারীর মাধ্যমে আজ পরীক্ষার সমাপ্তি হয়েছে।
পরীক্ষা শেষে আর দেরি করিনি।বিকেল৫-১০এ ছিলো আমাদের ট্রেন। রওয়ানা হয়ে যাই।

দিল্লী পেরুতেই আবু যাইদ সারুজির সাক্ষাত পাই।
সে কাওয়ালি গাচ্ছে, আর হাতিয়ে নিচ্ছে মুটো ভরে টাকা।

ঘড়ির কাটা পৌছে গেছে রাত ১০টায়।সকলি স্ব স্ব সিটে কম্বল বালিশ নিয়ে ঘুমের কোলে ঢলে পরছে।
সাথিরাও সকলে হারিয়ে গেছে ঘুম রাজ্যে।

চতুর্দিকে সুনসান নিরবতা।মাঝে মাঝে ভেসে আসছে কারো কারো নাক ডাকার প্রকট আওয়াজ।ট্রেনের টক্কর টক্কর শব্দ যেন তাদের কর্ণে পৌছুচ্ছে না।

ট্রেনের নিরব মুহূর্তটা গনিমত হিসেবে গ্রহণ করলাম।ডাউনলোড করে নিলাম,#মুস্তফা #লুতফীর প্রসিদ্ধ আরবি উপন্যাস #আবারাত বা কান্নারা।

একটা একটা করে পাতা উল্টোতে লাগলাম।
#যিকরা নামক শিরোনামে আমার নজর আটকে গেলো।

পড়তে শুরু করেছি।একটা একটা পৃষ্ঠা হারিয়ে যাচ্ছে স্ক্রিনে।আমি গোগ্রাসে গিলতে লাগলাম। আমার দৃষ্টি যেন এটে গেছে বইয়ের পাতায়।কখন যে গল্পটি শেষ হয়ে গেলো তা টাহরও করতে পারি নি।স্পেনে মুসলমানদের পরাজয় ও জংগি,সন্ত্রাসী খৃস্টানদের হাতে মুসলমানদের গণহত্যা প্রচন্ড পীড়া দেয় আমায়।মনে মনে নিজেদেরকে খুব ধিক্কার দিই।একসময় যারা ন্যায়-ইনসাফ দিয়ে পৃথিবী ভরে দিয়েছিলো,আজ তারা নির্যাতিত,অপমানিত।

তারা নাকি আজ সন্ত্রাসী?জংগী?
অথচ ইতিহাসের পাঠক মাত্রই জানে,কাদের ইতিহাস অত্যাচারের, আর কাদের সুবিচারের।

রাসূল সা: এর ২৩বছরের নববী জীবনে৫৩টি সন্ত্রাসদমন যুদ্ধে নিহতের সংখ্যা যেখানে ১০০০ছাড়ায়নি।
সেই নবী নাকি আজ সন্ত্রাসী???নাউযুবিল্লাহ।

স্পেন দখলে খৃস্টান রাজা ফার্ডিনেন্ড ১০,০০০এর অধিক মুসলমান হত্যা করে।

খৃস্টান রাজা হিটলার ৬০,০০০হাজার ইহুদি একত্রে হত্যা করে।

রুশবিপ্লবের সময় নাস্তিক লেনিন ১,০০,০০০ধিক মুসলমান ও খৃস্টান হত্যা করে।

ভারত দখলে খৃস্টান বৃটিশরা লাখ লাখ হিন্দু,মুসলমান আলেম,ওজনগণকে হত্যা করে।

আফগানিস্তানে রুশ ও মার্কিন সেনারা লক্ষ লক্ষ মুসলিম হত্যা করে।মা বোনদের ইজ্জত হনন করে।

আর উদাহরণ দেবো না।তাদের সন্ত্রাসী ও জঙ্গিগীরীর উদাহরণ দিতে গেলে শত শত পৃষ্ঠা শেষ হয়ে যাবে তবুও তাদের সন্ত্রাসীর বর্ণনা শেষ হবে না।

অবশেষে একটি উদাহরণ দিয়ে শেষ করছি।যেটা না বললেই না হয়।
#মায়ানমারে মুসলিম নিধন।যা আজ কারো চোখে গোপন নয়।
এটা কাদের দ্বারা হচ্ছে যেন?ও শান্তিরদূত বৌদ্ধদের দ্বারা।এরা সন্ত্রাস নয়? এরা জংগী নয়?

একজন আফগানী মুসলিম যখন হানাদার, সন্ত্রাসী,জংগী একজন রুশ বা মার্কিনীর গুলির সামনে ঢাল ধরবে তখন সে হয়ে যাবে সন্ত্রাসী, জংগী।

একদল বাঙ্গালী মুসলিম যখন তাদের রুহিঙ্গা ভাইদের জন্যে মিছিল করবে তখন সে হয়ে যাবে জঙ্গী,সন্ত্রাসী??????

হায়রে বিবেক?

এসব ভাবতে ভাবতে কোনদিক দিয়ে যে ঘুমিয়ে গেলাম টেরও পাইনি।৪টার দিকে শাকিল ভাই এসে ডাকতে লাগলো মুআয!জলদি উঠো।ট্রেন গন্তব্যে চলে এসেছে।

রাজস্থানের রাজধানী জয়পুর আমরা অবতরণ করি।বাহিরে প্রচন্ড শীত অনুভব করি।
গা কাঁপতে শুরু হলো।

আমি তোকে ভালোবাসি

                                

মুআয আল জুহানী


আগে কখনো বুঝতে পারিনি, তোকে এতো ভালোবেসে ফেলেছি।তোর বিরহ যে এতো কষ্টের হবে, ভাবতেও পারিনি।তোকে ভালোবেসে ছিলাম। মন উজার করে তোকে ভালোবেসে ছিলাম।হৃদয় গহীনের জায়গাটা তোর জন‍্যেই ছিলো।কিন্তু কিভাবে তুই সে জায়গাটা দখল করলি আমি টেরও পাইনি।আমি জানতেও পারিনি তোর দখলদারিত্বের কথা।তুই যে আমার মনকে এভাবে দখল করে নিবি আমি কখনো কল্পনাও করিনি।আচ্ছা, ভালোকথা,তুই ভালো যখন বেসেই ছিলি ,তাহলে বিচ্ছেদ কেনো করবি।তুই কি জানিস না, আমিও তোকে ভালোবেসে ফেলেছি।জানিস!আগে যদি জানতাম বিরহ-বেদনা এতো কঠিন,তোকে ভালোবাসতাম না।কিন্তু, আমি আগে তা বুঝতে পারিনি,তাই তোকে ভালোবেসে ফেলেছি।বিরহ যে এতো কষ্টের হবে, তা কখনো আঁচ করতে পারিনি।আগে বুঝতামনা, কেনো প্রেমিকরা ফাঁসিতে ঝুলে।(নিশ্চয় তাদের কাজটা খুব বড় অন‍্যায়)কিন্তু আজ তাদের কষ্টটা বুঝতে পারছি।সে যাইহোক,তুই যদিও একবারেই ভুলে যাস, আমি কিন্তু তোকে ভুলতে পারবো না।আমি তোকে ভালো বেসেই যাবো।আমরণ।আমৃত‍্যু।সংশপ্তক।
মানুষ হয়তো খারাপ বলতে পারে, আমাকে, তোর আমার ভালোবাসার কারণে। তাদের বলা তাঁরা বলুক।তাতে আমার কিচ্ছু  যায় আসে না। আমি তোকে ভালো বেসেই যাবো।
মুতানাব্বী বলেছে না!
عذل العواذل حول قلب التائه+ وهوى الأحبة في سودائه.
মোর প্রেমিকার ভালোবাসা
আমার হৃদয় জুড়ে,
নিন্দাকারীর নিন্দা থাকে
হৃদয় থেকে দূরে।

তুই ছিলি আমার ভালোবাসা,আমার হৃদস্পন্দন আমার সব।

একবছর তুই আমাকে সুযোগ দিয়েছিলি তোকে ভালোবাসার।দৈনিক আটবার তোর সাক্ষাত পেতাম।তোর প্রেমে মত্ত থাকতাম।
আস্তে আস্তে ,বছরটা শেষ হতে লাগলো।
তুইও আমার থেকে দূরে সরতে শুরু করলি। তোর একেকটা দরজা বন্ধ করতে শুরু করলি।কিন্তু দৈনিকই একটু আশা থাকতো,আরোতো আছে, সেগুলো দিয়ে প্রবেশ করবো।তিনদিন আগে যখন একটা বাদে বাকিগুলো বন্ধ করে দিলি,তখনো আশার প্রদীপটা নিভু নিভু করে জ্বলছিলো।
কিন্তু আজ! আজ তুই একি করলি!
সবগুলো দরজা তুই আজ বন্ধ করে দিলি!😢
বুখারীর শেষ দরসটাও শেষ হয়ে গেলো আজ।😢
জানিস পালনপুরী সাহেব দুআ শুরু করতেই, আমি কেন হাউ-মাউ করে কেঁদেছিলাম!
দুআ করছে,সে জন‍্যে নয়!
বরং তোর বিরহের নাকারা বেজে গেছে তাই  কেঁদেছিলাম।
তোকে ছেড়ে যেতে হবে তাই কেঁদেছিলাম।
তোর দরসগাহর প্রথম টেবিলটা আমার জন‍্যে আর খালি হবে না।আর শুনতে পারবো না বাহরুল উলুমের দালিলিক আলোচনা।আর শুনবো না ইবনে হাজারের রিজালের আলোচনা।মাদানীর বিরল তাকরীর।পালনপুরীর বিজ্ঞানদীপ্ত তাওজিহাত।মাদরাজীর ভ্রাতৃসুলভ আচরণ আর নবীপ্রেমের প্রেরণা।
আর পাবো না তাওলাভী, খুরশিদ, সাম্ভলী,আর গৌন্ডবীর তাকরির,তাই কেঁদেছিলাম।আরো কেঁদেছিলাম নিজ ইলম শূন‍্যতার কথা স্মরণ করে।তোর থেকেই আকাবিররা বিশ্বব‍্যাপি ইলম ও ইসলামের কেতন উড়িয়েছিলো।তাঁরাও তোকে ভালোবাসতো আমিও তোকে ভালোবাসি।তারা ছিলো একেকজন ইলম আমলের দিকপাল।কিন্তু আমি কিছুই হতে পারিনি।এখন , এটাই আল্লাহর কাছে চাওয়া,তিনি যেন আমাকেও তাদের মতো কবুল করেন।যদিও আমি তোর ভবনগুলোতে থাকাকালীন সেরকম কিছুই অর্জন করতে পারিনি।তোর সাথে ভালোবাসার দিনগুলোতে তোকে শুধু ভালোই বেসেছি, নিতে পারিনি কিছুই তোর থেকে।সেজন‍্যে কেঁদেছি।
 যখন ছেলেটা বিদায়ী সংগীত গাচ্ছিলো,
বলছিলো:- মাদরে ইলমী কো ছুড়নে কি সদা।
 মনটা আমার ভেঙে চৌচির হয়ে যাচ্ছিলো।তোকে ছেড়ে যেতে হবে তাই।

তুই বিদায় করিস না আমাকে!😢 আমাদের ভুলিস না কখনো।
আবার কখনো আসলে আগের মতো করেই গ্রহণ করিস আমাদের।

কিন্তু শত আবেগ থাকা সত্যেওতো বিদায় নিতেই হবে আমাদের।
বলতে হবেই আল বিদা!😢 মাদরে ইলমী দারুল উলুম দেওবন্দ।
আল বিদা!😢😢😢


মোবাইল ব্যবহারে মুফতি সাঈদ আহমদ পালনপুরী যা বললেন


বর্তমানে ছাত্রদের লেখাপড়ার সবচেয়ে বড় ক্ষতি যা করছে তা হলো মোবাইল। এখন এই মোবাইল থেকে কিভাবে বিরত থাকা যায়, মোবাইল থেকে বিরত থাকার কি পথ বের করতে পারবো আমরা। তা নিয়ে আমি অনেক চিন্তা করেছি ,অবশেষে যা পেয়েছি তাহলো ছাত্র ওস্তাদ সকলকেই মোবাইল ব্যবহার থেকে বিরত থাকতে হবে । কোন বিষয়ের উপর আমল না করে অন্যকে বললে তার উপর আসর  পড়ে না। সে বিষয়ে আমার একটি ঘটনা মনে পড়ছে ,এক মাদ্রাসার ওস্তাদের কাছে এক ছাত্রের মা এসে অভিযোগ করল, আমার ছেলেটা বেশি গুড় খায়, তখন হুজুর বলল আপনি তাকে দুসপ্তাহ পর নিয়ে আসুন দু সপ্তাহ পর ছাত্রটির মা তাকে নিয়ে আসলো ।তখন তিনি ছেলেটিকে বুঝিয়ে বলল বাবা গুড় খাবে না এটা হজম শক্তির অনেক ক্ষতি করে।এ কথা শুনে ছেলেটি গুড় খাওয়া ছেড়ে দিলো। তখন ছেলেটির মা ওস্তাদ কে প্রশ্ন করল হুজুর আমি দুসপ্তাহ পূর্বে আপনাকে বলেছিলাম নসিহত করতে, আপনি তখন তাকে কিছু বললেন না বললেন দু সপ্তাহ পর আসতে ।এটা কেন করলেন? তখন হুজুর বলল দু'সপ্তাহ পূর্বে আমি নিজেই গুড় খেতাম ,তাই আমি ভাবলাম যে জিনিসের উপর আমি নিজে আমল করি না,সেটা আরেক জনকে কিভাবে বলব? তারপর সে কথা কিভাবেই বা আসর ফেলবে এরপর আমি নিজে খাওয়া ছেড়ে দিলাম এবং এখন যখন সে আসলাম আর খাওয়া ছেড়ে দিল সুতরাং এখন একটাই পদ্ধতি আছে সেটা হলো ক্যাম্পাসে ক্লাসরুমে কোন ওস্তাদ ছাত্র মোবাইল নিয়ে আসবে না। এখন প্রিন্সিপাল বা মুহতামিম প্রশ্ন করতে পারেন ,আমাদের তো প্রয়োজন আছে আমাদের তো মোবাইল চালাতে হবে, আমি বলব ছাত্রদেরও প্রয়োজন আছে আপনাদের প্রয়োজন যেমন তেমনি প্রয়োজন। কিন্তু প্রয়োজনের ধরনটা একটু ভিন্ন এটাই শুধু পার্থক্য আর কোন পার্থক্য নেই এজন্য একটাই উপায় সেটা হল ওস্তাদ ছাত্রকে উই মোবাইল ব্যবহার করবে না ইনশাআল্লাহ madrasa school মোবাইল নামক ভাইরাস থেকে এ পদ্ধতির মাধ্যমে মুক্ত হয়ে যাবে।

বিশ্বসন্ত্রাস ও জঙ্গিবাদ বিরোধী গণ আন্দোলন প্রেস বিজ্ঞপ্তি তারিখ:১-১১-২০২৪ ঈ

প্রেস বিজ্ঞপ্তি তারিখ:১-১১-২০২৪ ঈ. ফিলিস্তিনে জায়নবাদী সন্ত্রাসী কর্তৃক গণহত্যা আন্তর্জাতিক মানবাধিকার লঙ্ঘন বায়তুল মোকাররমের উত্তর...